اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان بیک چینل رابطے قائم ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ہم نیوز کے پروگرام “کوئسچن آور” میں اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے کچھ لوگ بیک چینل کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔ تحریک انصاف اسلام آباد آنا چاہتی ہے تو آئے، حکومت دیکھ لے گی، تاہم صوبائی حکومت کو خیبرپختونخوا کے عوام کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں صحت اور تعلیم کا نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے، جبکہ دھرنے کے مؤخر ہونے سے تحریک انصاف کی سیاسی ساخت بھی ختم ہوگئی۔
عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوامی راج ہونا چاہیے اور ان لوگوں کو ویسے ہی حکومت چھوڑ دینی چاہیے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا کوئی امکان نہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے ڈی آئی خان میں ہونے والے دھماکے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوہاٹ اور ہنگو کے بعد آج ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی دھماکا ہوا، تاہم دہشتگردوں کا ہر قیمت پر مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور اس کی سیاست سے کوئی غرض نہیں، لیکن سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کو بتانا ہو گا کہ وہ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں یا ان کے خلاف؟۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف نے ساڑھے 12 سال میں دہشتگردی کو پروان چڑھایا، ہم شہریوں اور جوانوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں جبکہ انہیں سیاست کی پڑی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت پولیس کو جدید اسلحہ فراہم نہیں کرسکی، دوسری جانب پولیس ٹریننگ اور سیف سٹی کے لیے بھی کوئی مؤثر کام نہیں کیا گیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ رواں سال خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 4 ہزار 600 واقعات ہوئے، جن میں 472 افراد شہید اور 1500 سے زائد زخمی ہوئے۔ صوبائی حکومت دہشتگردوں کا مقابلہ کرنا تو دور، ان کے خلاف بیان تک جاری نہیں کرتی، جبکہ تحریک انصاف ٹی ٹی پی کی بی ٹیم بن کر بیٹھی ہے۔


