پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ رابطے کرنے والوں کے پاس اب بھی 7 دن ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور میں سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے علاج کے لیے بہنوں کی موجودگی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کے اپنے ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ شفا اسپتال میں ہونا چاہیے۔ جبکہ 9 ماہ ہو گئے عدالتوں سمیت ہر جگہ گیا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی سے دوسروں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ تاہم رابطے کرنے والوں کے پاس اب بھی 7 دن ہیں، جبکہ 4 اکتوبر کو روانہ ہوں گے تو پھر واپسی نہیں ہو گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر وہ وزارت اعلیٰ کی کرسی سے چلے بھی گئے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اگر انہیں نااہل قرار دیا گیا تو ان کا متبادل بانی پی ٹی آئی خود طے کریں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسئلہ بات چیت سے حل کرنا ہے تو لانگ مارچ کے بعد مذاکرات کے بجائے پہلے ہی کر لیے جائیں۔ کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ مذاکرات اور باہمی اتفاق سے حل ہو جائے۔
انہوں نے لانگ مارچ کی تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ سیاسی کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ وفاقی حکومت کو کچھ وقت دیا جائے، جبکہ تاخیر بھی حکمت عملی کا حصہ ہے، اس دفعہ نکلے تو واپس نہیں آئیں گے۔
انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو بھی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ہمارے پاس آتے ہیں تو انہیں خوش آمدید کہیں گے۔
لانگ مارچ 4 اکتوبر تک ملتوی
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ سیاسی کمیٹی کا متفقہ فیصلہ ہے لانگ مارچ 4 اکتوبر بروز اتوار پشاور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کارکن پرامن اور سیاسی ہیں، حکومت 9 مئی جیسے حالات پیدا کرکے پارٹی کارکنوں کے خلاف مقدمات بنانا چاہتی ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے اس سے قبل 27 ستمبر کو اسلام آباد کی لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا تھا جسے روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے بھی بھرپور تیاری کی گئی تھی۔
