اسلام آباد: آل پاکستان کنٹینرز ایسوسی ایشن کے صدر اویس چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران کنٹینرز فراہم کرنے والے مالکان کو اب تک واجبات کی ادائیگی نہیں کی گئی، جبکہ سرکاری سطح پر کنٹینرز کے کرایوں کی مد میں کروڑوں روپے کے اخراجات کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔
آل پاکستان کنٹینرز ایسوسی ایشن کے صدر اویس چوہدری نے ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے لیے کنٹینرز فراہم کیے گئے، تاہم ان کے مالکان کو تاحال رقم موصول نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت سے متعدد بار مطالبہ کیا گیا کہ کنٹینرز کے کرائے کی ادائیگی کے لیے باقاعدہ اور شفاف میکنزم بنایا جائے، لیکن اب تک ایسا کوئی نظام وضع نہیں کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا جاتا ہے کہ کنٹینرز کے مالکان کو مخصوص رقم ادا کی گئی یا ادا کی جانی ہے، تاہم ایسوسی ایشن کے پاس ایسی ادائیگی کا کوئی واضح ریکارڈ موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ متعلقہ مالکان کو رقم موصول ہوئی ہے۔
اویس چوہدری نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دھرنوں کے دوران فراہم کیے گئے کنٹینرز کے واجبات بھی ابھی تک ادا نہیں کیے گئے۔ اور یہ معاملہ وہ پہلے بھی میڈیا کے سامنے اٹھا چکے ہیں۔
آل پاکستان کنٹینرز ایسوسی ایشن کے صدر نے خدشہ ظاہر کیا کہ کنٹینرز مالکان کے نام پر ظاہر کی جانے والی رقوم اور اصل ادائیگیوں کے درمیان ممکنہ بے ضابطگی کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔ وزراء کی جانب سے معاوضے کی ادائیگی کے دعوؤں کے پیش نظر 2013 سے اب تک ادا کی گئی رقوم کا شفاف آڈٹ اور تحقیقات کرائی جائیں۔
کنٹینرز مالکان کو براہ راست رقم کی ادائیگی کا مطالبہ
انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاوضہ کسی ایسوسی ایشن، کنٹریکٹر یا تھرڈ پارٹی کے بجائے براہ راست ان گاڑی مالکان کو ادا کیا جائے جن کی گاڑیاں تحویل میں لی گئی ہیں۔ اور ایک شفاف نظام کے تحت حکومت کو یہ ریکارڈ رکھنا چاہیے کہ کس کنٹینر مالک نے کتنے کنٹینرز فراہم کیے، کتنے عرصے کے لیے فراہم کیے گئے اور اس کے عوض کتنی رقم واجب الادا ہے۔ فی الحال ایسا کوئی واضح میکنزم موجود نہیں ہے۔
دوسری جانب احتجاج کے لیے کنٹینرز کے کرائے اور دیگر سکیورٹی اخراجات کے حوالے سے سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار اور کنٹینرز مالکان کی جانب سے عدم ادائیگی کے دعوے میں فرق موجود ہے۔ اس فرق کو واضح کرنے کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے ادائیگیوں کا ریکارڈ سامنے آنا ضروری ہو گا۔


