رہنما پیپلزپارٹی قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر الیکشن کے مرحلے پر ہمارے متعدد تحفظات ہیں،ہمیں توقع تھی انتخابات صاف اورشفاف ہونگے مگر الیکشن کمیشن نتائج دیکھنے کے باوجود سویا ہوا ہے،انہیں باربار تحفظات سے آگاہ کیا۔
مظفر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایل اے31میں فائرنگ سے پیپلزپارٹی کاکارکن شہید ہوگیا،قائم مقام صدرآزادکشمیراپنے حلقے میں گئے توان پر حملہ کیاگیا،صدرریاست چودھری لطیف اکبرپرآج قاتلانہ حملہ کیا گیا،ریاست کے صدر محفوظ نہیں توپھر سیکیورٹی پلان کیاہے؟
ایل اے 27کا ملتوی ہونےوالا الیکشن 4اگست کو ہوگا،چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر
الیکشن کمیشن قائم مقام صدر ریاست کو سیکیورٹی نہیں دےسکا،ہم الیکشن کے عمل کو متنازع نہیں بنانا چاہتے،ن لیگ کے کارکن عملے کواٹھاکر گھر لے گئے اورٹھپے لگائے گئے،ایل اے31کے پولنگ اسٹیشن 42اور43پر12بجے عملہ پہنچا،دیگرعلاقوں میں 12بجےپولنگ ہوئی توایل اے27میں بھی ہوسکتی تھی۔
پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ پہلے ہی مرحلوں میں الیکشن ہورہے اب اس میں بھی ملتوی ہورہے ہیں،الیکشن ملتوی کرنے کا وہ بہانا بنائیں جو قابل قبول ہو،اس صورتحال کے باوجود ہم الیکشن میں موجود ہیں،الیکشن کاانعقاد ہی متنازع ہوگا تو جو جیتے گاوہ کیا کرلےگا۔
پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ آزاد کشمیر کاالیکشن ہم سے چھینا گیا،ان انتخابات کے تحت بننے والی حکومت پر کون اعتبار کرے گا،گولیاں اورخون بہاکر جیتنا ہے تو یہ کیسا الیکشن ہے،لاشیں گرتی رہیں، حالات خراب ہوتے رہیں، انہیں صرف اقتدار چاہیے۔
یہ الٹرا فارم 47 والا انتخاب نظر آ رہا ہے ، الیکشن کمیشن کردار ادا کرے ، ندیم افضل چن
ایل اے 27میں درخت ہٹاکر بھی الیکشن کرایا جا سکتا تھا،مسلم لیگ ن کشمیر میں نہ ہماری اتحادی تھی، نہ آج ہے،حساس ترین علاقوں میں صرف پولیس کے2سپاہی ہیں،پیپلزپارٹی نے مرحلوں میں الیکشن کی مخالفت کی تھی ،ہم نے تو الیکشن مؤخر کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔
آزاد کشمیر میں مرحلوں میں الیکشن کامطالبہ ہمارا نہیں تھا،حساس نوعیت کے تحت مرحلوں میں الیکشن قبول کیا،امیر مقام نے کہا گلگت میں ہم 8اور ن لیگ 9سیٹیں جیتی،آپ تو گلگت میں 6سیٹیں جیتے تھے آپ کو سیٹیں دلوائی گئیں،پتہ نہیں ن لیگ کواقتدار اتنا کیوں پیاراہے۔
