اسلام آباد: پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 12 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 336 روپے 3 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 66 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 392 روپے 38 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہو گا اور نئی قیمتیں 3اگست تک لاگو رہیں گی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کا انحصار کئی مقامی اور بین الاقوامی عوامل پر ہوتا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں: اگر عالمی سطح پر خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو پاکستان میں بھی درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا اثر مقامی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ: چونکہ پاکستان تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے سے درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
مال برداری (فریٹ) اور انشورنس اخراجات: عالمی شپنگ نرخ، انشورنس اور سپلائی چین کے اخراجات بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسز: حکومت کی جانب سے عائد پیٹرولیم لیوی، کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز حتمی قیمت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
شرح تبادلہ اور درآمدی پریمیم: آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو درآمدی پریمیم اور زرمبادلہ کی لاگت بھی برداشت کرنا پڑتی ہے، جس کا اثر قیمتوں میں شامل ہوتا ہے۔
علاقائی اور عالمی کشیدگی: مشرق وسطیٰ یا دیگر تیل پیدا کرنے والے خطوں میں جنگ، تنازعات یا سپلائی میں رکاوٹیں خام تیل کی عالمی قیمتیں بڑھا سکتی ہیں۔
اوگرا نے اگست کے لیے ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا
مقامی مالیاتی پالیسی: بعض اوقات حکومت مالی ضروریات، محصولات یا آئی ایم ایف پروگرام کے تقاضوں کے تحت پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل کرتی ہے، جس سے قیمتیں متاثر ہوتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عمومی طور پر بین الاقوامی تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر، درآمدی اخراجات اور حکومتی ٹیکس و لیوی کے مجموعی اثرات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اس لیے ان عوامل میں تبدیلی قیمتوں میں اضافے یا کمی کا سبب بنتی ہیں۔
