گلاسگو، کامن ویلتھ گیمز 2026 کے مردوں کے جیولن تھرو مقابلوں میں سری لنکا سری لنکا کے رومیش تھارانگا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 89.75 میٹر کی بہترین تھرو پھینکی اور گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔
پاکستان کے دفاعی چیمپئن ارشد ندیم میڈل کا دفاع کرنے میں ناکام رہے اور ابتدائی تین تھروز کے بعد ٹاپ آٹھ میں جگہ نہ بنا سکے۔ ارشد ندیم فائنل میں شریک 12 ایتھلیٹس میں نویں پوزیشن پر رہتے ہوئے مقابلے سے باہر ہوگئے۔
ارشد ندیم نے فائنل کا آغاز مایوس کن انداز میں کیا، جب ان کی پہلی تھرو فاؤل قرار دی گئی دوسری کوشش میں انہوں نے 77.41 میٹر کی تھرو پھینکی، جس کے بعد وہ کچھ دیر کے لیے بہتر پوزیشن میں آئے، تاہم دیگر ایتھلیٹس کی عمدہ کارکردگی کے باعث ان کی درجہ بندی مسلسل نیچے آتی گئی۔
قومی ایتھلیٹ نے تیسری کوشش میں 75.39 میٹر کی تھرو کی، جو انہیں ٹاپ آٹھ میں جگہ دلانے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔ مقابلے کے قوانین کے مطابق ابتدائی تین تھروز کے بعد صرف بہترین کارکردگی دکھانے والے آٹھ ایتھلیٹس کو مزید تین تھروز کا موقع دیا جاتا ہے، جبکہ باقی چار ایتھلیٹس مقابلے سے باہر ہو جاتے ہیں۔
دوسری جانب سری لنکا کے رومیش تھارانگا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 89.75 میٹر کی بہترین تھرو پھینکی اور طلائی تمغہ اپنے نام کر لیا۔ بھارت کے اسٹار ایتھلیٹ نیرج چوپڑا 85.83 میٹر کی سیزن بیسٹ تھرو کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ دیگر پوزیشنز کے لیے بھی سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔
واضح رہے کہ ارشد ندیم نے کوالیفائنگ راؤنڈ میں 78.63 میٹر کی تھرو کے ساتھ فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔ وہ دفاعی چیمپئن کی حیثیت سے طلائی تمغے کا دفاع کرنے میدان میں اترے تھے، تاہم اس بار وہ اپنی بہترین کارکردگی دہرانے میں کامیاب نہ ہو سکے اور ابتدائی مرحلے ہی میں ان کی مہم اختتام پذیر ہوگئی۔
یاد رہے کہ ارشد ندیم نے کوالیفائنگ راؤنڈ میں 78.63 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ ساتویں پوزیشن حاصل کرتے ہوئے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔ پاکستانی شائقین کو امید ہے کہ ارشد ندیم آئندہ تھروز میں اپنی کارکردگی بہتر بناتے ہوئے تمغے کی دوڑ میں مضبوط انداز سے واپس آئیں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے اسٹار جیولن تھرو ایتھلیٹ ارشد ندیم نے اپنی غیرمعمولی کارکردگی سے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی ایتھلیٹکس میں بھی نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے، وہ اولمپک، ایشین گیمز اور کامن ویلتھ گیمز کا چیمپئن ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔
ارشد ندیم نے 2024 پیرس اولمپکس میں 92.97 میٹر کی تھرو کے ساتھ اولمپک اور ایشیائی ریکارڈ قائم کیا، جو جیولن تھرو کی تاریخ میں بہترین انفرادی تھروز میں سے ایک شمار ہوتی ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ ایتھلیٹکس میں پاکستان کے پہلے اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور کسی بھی انفرادی مقابلے میں ملک کے پہلے اولمپک گولڈ میڈل جیتنے والے کھلاڑی بن گئے۔
وہ جدید کوالیفکیشن نظام کے تحت اولمپکس کے لیے براہِ راست کوالیفائی کرنے والے پاکستان کے پہلے ٹریک اینڈ فیلڈ ایتھلیٹ بھی ہیں، جبکہ ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے فائنل تک رسائی اور وہاں تمغہ جیتنے والے بھی پہلے پاکستانی ہیں۔ انہوں نے 2023 ورلڈ چیمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔
2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم نے 90.18 میٹر کی تھرو کے ساتھ نیا قومی اور کامن ویلتھ ریکارڈ قائم کیا اور 90 میٹر کی حد عبور کرنے والے پہلے جنوبی ایشیائی ایتھلیٹ بنے۔
کامن ویلتھ باکسنگ، فاطمہ زہرا سیمی فائنل میں شکست کے باوجود تاریخ رقم کر گئیں
واضح رہے کہ 2 جنوری 1997 کو پنجاب کے شہر میاں چنوں میں پیدا ہونے والے ارشد ندیم کا تعلق ایک پنجابی جٹ خاندان سے ہے۔ وہ آٹھ بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔
بچپن میں ارشد ندیم کرکٹ، فٹ بال، بیڈمنٹن اور دیگر کھیلوں میں بھی حصہ لیتے رہے، تاہم ان کی اصل دلچسپی کرکٹ میں تھی۔ ساتویں جماعت میں اسکول کے ایک ایتھلیٹکس مقابلے کے دوران کوچ راشد احمد ساقی کی نظر ان پر پڑی، جنہوں نے ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔
جیولن تھرو سے قبل ارشد ندیم شاٹ پٹ اور ڈسکس تھرو میں بھی حصہ لیتے رہے، تاہم بعد ازاں انہوں نے جیولن تھرو کو اپنا مستقل کھیل بنایا۔ ان کے والد محمد اشرف نے انہیں اس کھیل کو اپنانے کی ترغیب دی۔ ارشد ندیم خود بھی اعتراف کرتے ہیں کہ جیولن تھرو کا انتخاب ان کی زندگی کا بہترین فیصلہ ثابت ہوا۔
ارشد ندیم اس وقت قومی کھیلوں میں واپڈا کی نمائندگی کرتے ہیں اور پاکستان کے کامیاب ترین ایتھلیٹس میں شمار کیے جاتے ہیں۔
