پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ پاکپتن کے پولنگ اسٹیشن سے ہمارے پولنگ ایجنٹس کو نکالا گیا۔ آزاد کشمیر کے انتخابات پر پوری دنیا کی نظر ہے، اس انتخابی عمل کو درست کیا جائے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ ایل اے 27 اور 28 پیپلز پارٹی کے مضبوط گڑھ ہیں، کل تک مظفر آباد میں امن وامان کی صورتحال ٹھیک تھی ، جب ہمارے پولنگ ایجنٹس پہنچ سکتے ہیں تو عملہ کیوں نہیں؟۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ہم کسی صورت نہیں چاہتے کہ الیکشن کا بائیکاٹ کریں، ہم انتہائی قدم نہیں اٹھانا چاہتے، ہم بیلٹ سے تبدیلی چاہتے ہیں۔ یہ الٹرا فارم 47 والا انتخاب نظر آ رہا ہے۔
آزاد کشمیر انتخابات شفاف ہوئے تو جیت پیپلز پارٹی کی ہو گی ، ندیم افضل چن
انہوں نے کہا کہ سرکاری مشینری کے استعمال کے باوجود عوام نے انہیں مسترد کیا، جس طرح انتخابات کرائے جا رہے ہیں ،اسے فری اینڈ فیئر نہیں کہہ سکتے، میرپور کے الیکشن میں ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ، ثبوتوں کے ساتھ 15 شکایات الیکشن کمیشن کو جمع کرا چکے ہیں۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ شفاف انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن اپنا کردار ادا کرے، دھونس ، دھاندلی سے انتخابی نتائج تبدیل کئے گئے تو قبول نہیں کریں گے، بعض افراد نے بدامنی پھیلانے کی کوشش کی ، ووٹرز کو تنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کشمیر کی حکومت اور مستقبل کے فیصلے کشمیری عوام خود کریں ، بلاول بھٹو
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں تیسرے مرحلے کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، پیپلز پارٹی رہنما چوہدری لطیف اکبر پر حملہ ہوا ہے۔
ندیم افضل چن نے چند روز قبل بھی کہا تھا کہ ان کی جماعت پہلے دن سے مطالبہ کر رہی ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات مکمل طور پر آزاد، منصفانہ اور شفاف انداز میں کرائے جائیں اور وفاقی حکومت یا اس کی مشینری کسی بھی قسم کی مداخلت سے گریز کرے۔
