چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے ایل اے 31 میں پیپلز پارٹی کے کارکن مشتاق شاہ کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے صدر آزاد جموں و کشمیر چودھری لطیف اکبر پر حملے اور حلقہ ایل اے 31 میں پیپلز پارٹی کے کارکن مشتاق شاہ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ باوقار اور اصولی سیاست کی علامت چودھری لطیف اکبر پر آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے انتہا پسند عناصر کا حملہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری لطیف اکبر پر حملے کے بعد اسی حلقے ایل اے 31 میں ان کے کارکن مشتاق شاہ کو شہید کر دیا گیا۔
اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے مقتول کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے صدرِ ریاست پر حملہ اور پھر پارٹی کارکن کی شہادت سے مسلم لیگ (ن) کی نیت واضح ہو گئی ہے۔
مسلم لیگ ن کے شرپسند عناصر کی جانب سے آزاد کشمیر میں وقار اور اصول پسندی کی سیاست کی علامت، صدرِ ریاستِ آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ قابل مذمت ہے، چوہدری لطیف اکبر پر حملے کے بعد انہی کے انتخابی حلقے ایل اے 31 میں میرے کارکن مشتاق شاہ کو شہید کردیا گیا، گولی، لاٹھی…
— Bilawal Bhutto Zardari (@BBhuttoZardari) August 2, 2026
بلاول بھٹو زرداری نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر گولی، ڈنڈے اور زور زبردستی کے ذریعے عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈال رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ چودھری لطیف اکبر پر حملے میں ملوث افراد اور پیپلز پارٹی کے کارکن مشتاق شاہ کے قتل کے ذمہ داروں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب صدر آزاد کشمیر چودھری لطیف اکبر نے الیکشن کمیشن کو دو الگ الگ خطوط ارسال کرتے ہوئے فائرنگ، پولنگ میں مبینہ مداخلت اور ایک وکیل کے زخمی ہونے کے واقعے پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
چودھری لطیف اکبر نے خطوط میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کو قبل از وقت فول پروف سیکیورٹی انتظامات کی ضرورت سے آگاہ کیا گیا تھا، جبکہ اس سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات بھی کی گئی تھی۔ تاہم، ان کے بقول اس کے باوجود حلقہ ایل اے 31 میں مؤثر سیکیورٹی انتظامات نہیں کیے گئے۔
صدر آزاد کشمیر نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے ہاتھوں پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک کارکن شہید ہو چکا ہے، جبکہ متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ ایریا میں بیٹھنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔
الیکشن کمیشن شکایات پر نوٹس لیتا تو دوسرے مرحلے کے انتخابات کی ساکھ بحال ہو سکتی تھی ، بلاول
انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ پولنگ کے دوران پیش آنے والے تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور متاثرہ علاقوں میں آزادانہ، منصفانہ اور محفوظ انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
