آزاد جموں و کشمیر میں ریاستی حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) کے مظاہرین کے ساتھ تصادم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 3 اہلکار جاں بحق ہو گئے ہیں۔
ترجمان آزاد کشمیر پولیس کے مطابق راولاکوٹ میں “مسلح عناصر نے آٹو میٹک ہتھیاروں کیساتھ” قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ کی جس سے ایک رینجرز اہلکار شہید، جبکہ ایک پولیس افسر سمیت 5 اہلکار زخمی ہوئے۔
دوسری جانب انسپکٹر جنرل آزاد کشمیر پولیس نے عرب نیوز کو فون پر بتایا کہ راولاکوٹ میں مظاہرین کے ساتھ تصادم میں دو پولیس اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں۔
یہ واقعات ایسے موقع پر رپورٹ ہوئے ہیں جب آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحل “پر امن” طریقے سے مکمل ہو چکا ہے اور میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 9 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 4 سیٹوں پر برتری حاصل کی ہے۔
راولاکوٹ، جہاں پولنگ انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو ہونا تھی، میں صورتحال تب بگڑی جب لگ بھگ 2 ماہ سے راولاکوٹ میں احتجاجی دھرنے میں بیٹھی کالعدم جیک نے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ مارچ میں میرپور اور راولاکوٹ ڈویژن سے مظاہرین شامل ہیں اور اس کا اعلان کمیٹی نے ہفتے کے روز حکومتی نمائندوں کیساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا تھا۔
یہ کمیٹی 2023 میں 38 مطالبات پر مشتمل ایک چارٹر آف ڈیمانڈ کیساتھ سامنے آئی، جس کے بیشتر مطالبات بشمول آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کو حکومت نے مئی 2024 میں کیے گئے لانگ مارچ کے بعد منظور کر لیا تھا۔ باقی کے مطالبات کی منظوری تعطل کا شکار تھی جن میں اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ، الیکشن اصلاحات، اور مہاجروں کی 12 نشستوں کا خاتمہ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کی تین میں سے ایک ڈویژن میں الیکشن، باقی میں لانگ مارچ کا شوشہ
ان مطالبات کی منظوری کے لیے 9 جون کو ایک اور لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا، تاہم اس سے 4 دن قبل ایک جلسے سے واپسی پر کمیٹی کے ایک کور ممبر پر حملہ ہو گیا، جس کے بعد خطے میں صورتحال بگڑ گئی اور مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 30 کے قریب جانوں کا نقصان ہوا۔
راولاکوٹ میں متعدد مقامات پر مظاہرین 9 جون سے دھرنے دیے بیٹھے تھے اور ان کے مطالبات میں کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے، جاں بحق مظاہرین کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے، اور مظاہرین کے خلاف درج کیے گئے مقدمات ختم کرنے جیسے نکات کا اضافہ ہو گیا۔
جیک کے مطابق لانگ مارچ کے آغاز پر جب مظاہرین نے راولاکوٹ شہر کا رخ کیا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان پر فائرنگ اور شیلنگ کی۔ تاہم پولیس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ایک بیان کہا ہے کہ “کالعدم کمیٹی کے سوشل میڈیا ہینڈلرز کی جانب سے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے من گھڑت ایڈٹ شدہ ویڈیوز کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے، اشتعال دلانے اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی مزموم کوشش کی جا رہی ہے۔”
دوسری جانب کالعدم جیک کا کور ممبر عمر نذیر کشمیری نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین نہتے تھے، اور اپنے حقوق کے لیے نکلے تھے، مگر ان پر کریک ڈاؤن کیا گیا، اور فائرنگ کے نتیجے میں ان کے بھائی سمیت 25 افراد جاں بحق ہو گئے۔
یہی دعویٰ عرب نیوز کیساتھ بات کرتے ہوئے جیک کے کور ممبر عابد شاہین نے بھی کیا، جبکہ پولیس اور انتظامیہ نے جیک کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی جا سکتی کیونکہ حکام کو کوئی لاش یا زخمیوں کے علاج کا ریکارڈ موصول نہیں ہوا۔
اطراف کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی، کیونکہ راولاکوٹ کے مقامی صحافی حارث کے مطابق پسماندہ اور متنازعہ علاقہ ہونے کے باعث یہاں شہری علاقوں کی طرح مروجہ طریقہ کار کی پیروی نہیں ہو پاتی۔
ہم نیوز کے نمائندے کے مطابق میرپور میں بھی جیک کے حامی مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم ہوا، جس دوران فائرنگ بھی ہوئی۔ واقعے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور دکانیں اور بازار بند ہو گئے۔
وفاقی حکومت کے نمائندوں نے بھی کالعدم جیک پر مسلح ہونے اور آزاد کشمیر میں تخریب کاری پھیلانے کے الزامات لگائے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو جمہوریت اور تحریک آزادیِٔ کشمیر کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسلح لوگ ہیں، اور ان کی مظفرآباد پر چڑھائی ایسے ہی ہے “جیسے انڈیا حملہ کردے”۔
اسی طرح وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں غیر جمہوری قوتوں نے الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، اور جب ناکام ہوئے تو بوکھلا کر بیلٹ کے بجائے بُلٹ کی سیاست پر اتر آئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مظاہرین کے ساتھ بروقت اور مؤثر مذاکرات کیے جاتے تو تشدد کی نوبت نہ آتی۔ انہوں نے خطے میں انٹرنیٹ سروس کی بندش کی بھی مذمت کی۔
View this post on Instagram
جاری صورتحال پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک بیان میں کہا کہ “کشمیری عوام پر فائرنگ اور تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ آج کشمیر کاز کو دفن کیا جا رہا ہے۔۔۔۔ کشمیری عوام نے دھاندلی زدہ انتخابات مسترد کردیئے ہیں۔ حقوق مانگنے والوں کو کب تک غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا جاتا رہے گا۔ ریاست فوری طور پر ظلم بند کرے،عوام کو جائز احتجاج کا حق دیا جائے۔”
اسی طرح سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے راولاکوٹ اور آزاد کشمیر کے دیگر علاقوں میں ہونے والے جانی نقصان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ حکام سے عوام کی جان محفوظ بنانے اور معاملے کا پر امن مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔
تاہم وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ “میرے نہیں خیال کہ [ایکشن کمیٹی کیساتھ] کوئی ڈائیلاگ ہوگا، میں ان [جیک کے] لوگوں کو ہندوستان کے ساتھ بریکٹ کرتا ہوں۔۔۔۔ہندوستان کی طرح یہ لوگ بھی پاکستان کے دشمن ہیں۔”
