لاہور (علی رضا) قیامِ پاکستان کے بعد سے غیر فعال اور غیر قانونی قبضے میں موجود لاہور کے تاریخی گوردوارہ چھٹی پاتشاہی کو 77 برس بعد واگزار کرا کے سکھ برادری کے حوالے کر دیا گیا، جہاں سکھوں نے پہلی مرتبہ اپنی مذہبی عبادات اور رسومات ادا کیں۔
لاہور کے علاقے چونگی امرسدھو میں واقع یہ تاریخی گوردوارہ تقسیمِ ہند کے بعد سے مقامی افراد کے قبضے میں تھا، سکھ سیوا ویلفیئر سوسائٹی پاکستان، ضلعی انتظامیہ، پولیس اوردیگرمتعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں سے گوردوارہ واگزار کرا کے سکھ برادری کے سپرد کیا گیا۔
گوردوارے کے 407 سال مکمل ہونے کے موقع پر سکھ برادری نے خصوصی مذہبی تقریب کا انعقاد کیا، جس میں عبادات اور مذہبی رسومات ادا کی گئیں۔ اس موقع پر شرکا نے اس پیش رفت کو پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
سکھ سیوا ویلفیئر سوسائٹی پاکستان کے رہنما ڈاکٹر گلاب سنگھ نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے گوردوارے کی واگزاری کے لیے کوششیں جاری تھیں۔
Pakistan has reopened the historic Gurdwara Chhatti Patshahi in #Lahore after 77 years, marking the first Sikh religious prayers here since the 1947 Partition. The reopening followed the removal of alleged illegal occupants and the handover of the site to the Sikh community. pic.twitter.com/e3PW0ipjVB
— Shiraz Hassan (@ShirazHassan) July 8, 2026
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، ضلعی انتظامیہ، پولیس، متروکہ وقف املاک بورڈ اور صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سرداررمیش سنگھ اروڑا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا کے مطابق گوردوارہ چھٹی پاتشاہی کی مکمل بحالی، مرمت اور تزئین و آرائش کی جائے گی تاکہ اس تاریخی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
لاہور کا تاریخی گوردوارہ جہاں 1947 کے بعد پہلی بار سکھ برادری نے مذہبی رسومات ادا کیں
انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت ملک بھر میں مزید 50 گوردواروں کو بھی مرحلہ وار فعال کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
گوردوارہ چھٹی پاتشاہی، لاہور کی 400 سالہ تاریخ کیا ہے؟
امرسدھو میں واقع گوردوارہ چھٹی پاتشاہی سکھ مذہب کے مقدس اور تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے، روایات کے مطابق 1619ء میں سکھوں کے چھٹے گرو، شری گرو ہرگوبند صاحب جی اس مقام پر تشریف لائے، جہاں انہوں نے سنگت کو گربانی، نام سمرن، خدمت اور انسانیت کا درس دیا، جس کے بعد یہ مقام سکھ برادری کے لیے مقدس حیثیت اختیار کر گیا۔
بعد ازاں سکھ سلطنت کے بانی مہاراجہ رنجیت سنگھ نے گرو ہرگوبند صاحب کی یاد میں اپنے دورِ حکومت (1801ء تا 1839ء) کے دوران یہاں ایک یادگاری گوردوارہ تعمیر کرایا۔
بعد میں 1922ء میں معروف معمار سر گنگا رام نے گوردوارے کی مرمت اور توسیع کرائی، جس سے اس کی تاریخی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ آج گوردوارہ چھٹی پاتشاہی پاکستان میں سکھ مذہبی ورثے اور تاریخ کی ایک اہم علامت تصور کیا جاتا ہے۔
