لاہور (علی رضا/انعام احمد): صوبائی دارالحکومت میں واقع تاریخی گوردوارہ ‘چھٹی پادشاہی’ کو دہائیوں بعد غیر قانونی قبضے سے واگزار کرا کے سکھ برادری کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں انہوں نے 1947 کے بعد پہلی بار مذہبی رسومات ادا کیں۔
چونگی امرسادھو کے علاقے میں واقع اس گوردوارے کو ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے آپریشن کے ذریعے خالی کرایا، جس کے بعد اس کا قبضہ سکھ برادری کے حوالے کیا گیا۔
بحالی کے بعد سکھ یاتریوں نے سری گرو گرنتھ صاحب کی تلاوت، گربانی کیرتن اور نام سمرن کے ذریعے مذہبی سرگرمیوں کا آغاز کیا، جو تقریباً آٹھ دہائیوں بعد ممکن ہو سکا۔
سکھ رہنما ڈاکٹر گلاب سنگھ نے اس پیشرفت کو تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر حکام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کے ایڈیشنل سیکرٹری مزارات ناصر مشتاق اور صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور و انسانی حقوق رمیش سنگھ اروڑا کی کوششوں کو بھی سراہا۔
Pakistan has reopened the historic Gurdwara Chhatti Patshahi in #Lahore after 77 years, marking the first Sikh religious prayers here since the 1947 Partition. The reopening followed the removal of alleged illegal occupants and the handover of the site to the Sikh community. pic.twitter.com/e3PW0ipjVB
— Shiraz Hassan (@ShirazHassan) July 8, 2026
ڈاکٹر گلاب سنگھ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ گوردوارے کی مکمل بحالی اور تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ اس کے مذہبی اور تاریخی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔
اس موقع پر رمیش سنگھ اروڑا کا کہنا تھا کہ پاکستان سکھ برادری کا پہلا گھر ہے اور حکومت ملک بھر میں مزید گوردواروں کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں 17 گوردواروں کی مرمت و بحالی جاری ہے جبکہ 50 مزید گوردواروں کو فعال بنانے کا منصوبہ ہے۔
واضح رہے کہ گوردوارہ چھٹی پادشاہی کو سکھ مذہب کے چھٹے گرو، گرو ہرگوبند کی 1619 میں آمد سے منسوب کیا جاتا ہے، جبکہ موجودہ عمارت مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں تعمیر کی گئی اور 1922 میں سر گنگا رام کی نگرانی میں اس کی توسیع و مرمت کی گئی۔
