پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق کے خلاف سیاسی محاذ کے ساتھ قانونی جنگ بھی لڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے آئینی عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔
درخواست میں این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حصے میں اضافے، ضم شدہ اضلاع کے لیے فنڈز کی ادائیگی اور نئے این ایف سی کمیشن کی سفارشات پر صدارتی حکم جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پچیسویں آئینی ترمیم کے تحت فاٹا اور پاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا، تاہم اس کے باوجود این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حصے میں متناسب اضافہ نہیں کیا گیا اور نئے اضلاع کی شمولیت کے باوجود صوبے کو اب بھی پرانے فارمولے کے تحت این ایف سی شیئر دیا جا رہا ہے۔
Khyber Pakhtunkhwa has approached the Federal Constitutional Court, seeking Rs964 billion in unpaid federal funds following the 2018 merger of the former FATA with the province.
The KP government argues that while the merger increased its population, territory and… pic.twitter.com/EK2Beu8n6w
— P Connect (@ConnectingPak) July 22, 2026
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نئے این ایف سی کمیشن کی سفارشات پر صدارتی آرڈر جاری کرنے کا حکم دیا جائے، گرانٹ اِن ایڈ آرڈر کے تحت خیبرپختونخوا کا حصہ 14.79 فیصد مقرر کیا جائے اور پچیسویں آئینی ترمیم کے نفاذ کی تاریخ سے ضم شدہ اضلاع کے حصے کے تمام فنڈز جاری کرنے کے احکامات دیے جائیں۔
درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں خیبرپختونخوا کے حصے میں اضافے سے متعلق وفاقی حکومت کے مؤقف کو غیر آئینی قرار دیا جائے، کیونکہ این ایف سی شیئر میں اضافہ نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 160 کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست کے مطابق وفاقی حکومت، صدر مملکت اور این ایف سی کمیشن کے اجلاسوں سمیت مختلف متعلقہ فورمز پر یہ معاملہ بارہا اٹھایا گیا، تاہم صدر، وزیراعظم اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے صوبے کے مطالبات پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ موجودہ آئینی درخواست کی توثیق خیبرپختونخوا اسمبلی نے 13 جنوری کو کی، جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان نے بھی این ایف سی ایوارڈ میں خیبرپختونخوا کے حصے میں اضافے کی حمایت کی ہے۔
