آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور گردونواح میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروسز جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
ریاست بھر میں انٹرنیٹ سروس ایک احتجاجی تحریک کے باعث 5 جون 2026 کو معطل کی گئیں تھیں۔ یہ تحریک جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) کی جانب سے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے شروع کی گئی تھی۔ کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں 9 جون کو ریاست کے دارالحکومت مظفرآباد تک لانگ مارچ کی کال دے رکھی تھی۔
تاہم 5 جون کو جیک کے ایک کور ممبر پر مبینہ حملے اور اس کے بعد مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم کے بعد کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا اور اسی روز ریاست بھر میں انٹرنیٹ سروس بھی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے معطل کر دی گئی تھی۔
قبل ازیں بلاول بھٹو نے ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کا انٹرنیٹ سروس بحال کرانے کے لیے کی گئی “کوششوں” پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرپور میں انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائیگی۔
I’m grateful to the AJK PPP for their efforts & the election commission of AJK for their intervention. I’m hearing internet and digital connectivity will be restored in Mirpur AJK soon. I’m hopeful our requests for Muzaffrabad and other areas are also accepted as soon as…
— Bilawal Bhutto Zardari (@BBhuttoZardari) July 23, 2026
بلاول کا کہنا تھا کہ “مجھے امید ہے کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں [میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے) کے لیے بھی ہماری درخواست جتنی جلد ممکن ہو قبول کی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق ابھی تک صرف موبائل انٹرنیٹ بحال ہوا ہے جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ بلنگ کا پروسس مکمل ہونے کے بعد بحال کر دیا جائیگا۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سر پر ہیں۔ الیکشن کمشن نے “سکیورٹی، انتخابی عملے کی تعیناتی اور انتخابی عمل کی نگرانی بہتر انداز میں ممکن بنانے کے لیے” مرحلہ وار انتخابات کا اعلان کر رکھا ہے۔
پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔ اس طرح آزاد کشمیر میں عام انتخابات کا عمل 3 مراحل میں مکمل ہوگا۔
دوسری جانب لگ بھگ ڈیڑھ مہینہ سے کالعدم ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کے شہر راوالاکوٹ میں اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے جس کا ایک بڑا مطالبہ مہاجرین مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی میں موجودہ 12 نشستوں کے خاتمہ سے متعلق ہے۔
