امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے سول جوہری معاہدے پر نئی شرط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کی ابراہمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دستخط شدہ جوہری معاہدہ منظور کیا جائے گا، تاہم اس کی تکمیل سعودی عرب کے “انتہائی قابل احترام اور کامیاب” ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے سے وابستہ ہے۔
ایک روز قبل امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور ان کے سعودی ہم منصب نے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت سعودی عرب کو پرامن مقاصد کے لیے سول جوہری پروگرام کی ترقی میں تعاون فراہم کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ معاہدے میں جوہری مواد کی افزودگی شامل نہیں ہوگی تاہم بعض رپورٹس کے مطابق معاہدے میں سعودی عرب کو اپنے سول ری ایکٹرز کے لیے ایندھن تیار کرنے کی صلاحیت ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ نگرانی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
Trump says Saudi Arabia nuclear deal ‘totally subject’ to Riyadh joining Abraham Accords, normalizing Israel ties https://t.co/nMARLeGC6E pic.twitter.com/D1FldJco8u
— New York Post (@nypost) July 23, 2026
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے سول جوہری معاہدے ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے پاس بھی پہلے سے موجود ہیں جبکہ سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ معاہدہ بھی اسی نوعیت کا ہوگا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ 2009 میں ہونے والے جوہری تعاون کے معاہدے سے مختلف ہے کیونکہ سعودی عرب سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے اضافی پروٹوکول پر دستخط کی شرط شامل نہیں کی گئی۔
معاہدے پر اسرائیلی حکام اور امریکی کانگریس کے بعض ارکان کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، ناقدین کا مؤقف ہے کہ سعودی عرب کو جوہری صلاحیت فراہم کرنے سے مشرق وسطیٰ میں جوہری دوڑ کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
سعودی عرب ماضی میں ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے سے گریز کرتا رہا ہے اور اس کا مؤقف رہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مکمل تعلقات فلسطینی ریاست کے قیام سے منسلک ہیں۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے جوہری معاہدہ پر ٹرمپ نے ایک دن بعد نئی شرط لگا دی ہے، گزشتہ روز دستخط کے وقت معاہدے میں ابراہم اکارڈ کی شرط نہیں تھی۔
ابراہمی معاہدے کیا ہیں؟
ابراہمی معاہدے (Abraham Accords) امریکا کی ثالثی میں ہونے والے ایسے سفارتی معاہدوں کا سلسلہ ہیں جن کا مقصد اسرائیل اور متعدد مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرنا تھا۔
یہ معاہدے ستمبر 2020 میں وائٹ ہاؤس میں دستخط کیے گئے، جن کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں مراکش اور سوڈان بھی اس عمل کا حصہ بنے۔
ابراہمی معاہدوں کو 1994 میں اردن کے بعد عرب دنیا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ایک بڑا سفارتی قدم قرار دیا گیا۔ ان معاہدوں کا مقصد مشرق وسطیٰ میں اقتصادی، تجارتی، سیاحتی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا بتایا گیا۔
امریکا سعودی سول جوہری معاہدہ، اسرائیلی اپوزیشن نیتن یاہو پر برس پڑی
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ نے ان معاہدوں میں اہم کردار ادا کیا تھا جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بعد میں بھی مزید ممالک کو اس عمل میں شامل کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔
سعودی عرب اب تک ابراہیمی معاہدوں میں شامل نہیں ہوا، تاہم امریکا کی جانب سے ریاض کے ساتھ سول جوہری تعاون کے معاہدے کو ان معاہدوں سے جوڑنے کی بات سامنے آئی ہے، جس نے خطے کی سفارت کاری میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
