مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس معاملے پر کسی بھی قسم کی پسپائی اختیار نہیں کی جائے گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی قیادت اب آبنائے ہرمز کو اپنے جوہری پروگرام سے بھی زیادہ اہم تزویراتی اثاثہ سمجھتی ہے اور اسی بنیاد پر امریکا سمیت مغربی ممالک سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔
آبنائے ہرمز پر ہر جہاز سے فیس وصول کی جائے گی ، دوست ممالک کو خصوصی رعایت دیں گے ، ایران
رپورٹ میں دو سینئر ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تہران کے اعلیٰ حکومتی حلقوں میں اس بات پر تقریباً مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اختیار ایران کے لیے ایک “طاقتور ہتھیار” کی حیثیت رکھتا ہے، جسے کسی صورت ترک نہیں کیا جا سکتا۔
ذرائع کے مطابق اگر ایران اس معاملے پر دباؤ قبول کرتا ہے تو امریکا مستقبل میں جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور دیگر دفاعی امور پر بھی مزید مطالبات سامنے لا سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض جہازوں پر ایرانی کارروائی اور اس کے بعد امریکی افواج کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے نے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھا دی، جس سے گزشتہ ماہ ہونے والا عبوری امن معاہدہ بھی دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ ہے ، کوئی ملک ٹول یا فیس وصول نہیں کر سکتا ، امریکی وزیر خارجہ
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ امور کی کمیٹی کے رکن ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “آبنائے ہرمز میں ایران کے نئے نظام کو تسلیم کرنا ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔”
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں ہونے والے عبوری معاہدے میں ایران نے صرف 60 روز کے لیے تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا معاوضہ آمدورفت میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ تاہم اس معاہدے کی تشریح پر دونوں ممالک کے درمیان اختلاف برقرار ہے۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں شامل شقیں دراصل آبنائے ہرمز کے انتظام میں ایران کے کردار کو تسلیم کرتی ہیں، جبکہ امریکا اور خلیجی ممالک اس تشریح سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ ایران صرف محفوظ گزرگاہ کی سہولت فراہم کرنے کا پابند ہے، اسے راستے پر مکمل اختیار حاصل نہیں۔
معاہدہ نہ ہونے پر آبنائے ہرمز میں ٹول عائد کر سکتے ہیں ، ٹرمپ
رائٹرز کے مطابق ایرانی قیادت کا امریکا پر عدم اعتماد مزید گہرا ہو چکا ہے، خصوصاً سابقہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی، حالیہ فوجی کارروائیوں اور سفارتی عمل کے دوران کشیدگی میں اضافے کے بعد تہران اب اپنی دفاعی حکمت عملی میں آبنائے ہرمز کو سب سے مؤثر دباؤ کے ذریعہ کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران نے امریکا کو واضح پیغام دیا ہے کہ جب تک واشنگٹن آبنائے ہرمز کے انتظام میں ایران کے مکمل کردار کو تسلیم نہیں کرتا، اس وقت تک جوہری پروگرام پر باضابطہ مذاکرات کا آغاز ممکن نہیں ہوگا۔
مبصرین کے مطابق اس مؤقف کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار رہنے اور ایران و امریکا کے درمیان اختلافات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
