تہران، ایرانی میڈیا نے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ نہ صرف بھرپور جوابی کارروائی کرے گا بلکہ آبنائے ہرمز بند کردیں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق کسی بھی جارحیت کی صورت میں ایران سخت اور مؤثرردعمل دے گا ان کا کہنا ہے کہ حملے کی صورت میں ایک کے بدلے دو اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا تاکہ مخالف فریق کو واضح پیغام دیا جا سکے۔
حکام نے کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اورخودمختاری پرکسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی فوجی کارروائی کا جواب پوری طاقت سے دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے ایران پر آج رات سخت حملے کی وارننگ دے دی
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار روزانہ گزرتی ہے، اس لیے اس آبی راستے سے متعلق کسی بھی کشیدگی پرعالمی منڈیوں اور خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جاتی ہے۔
تاہم ایرانی حکام کے اس دعوے یا ممکنہ اقدام پر فوری طور پر کسی دوسرے ملک یا متعلقہ بین الاقوامی ادارے کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث صورتحال پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ٹرمپ سے ان ہی کی زبان میں بات کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ طاقت کی زبان کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، اس لیے ایران بھی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب انداز میں جواب دے گا، تہران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے جھکنے والا نہیں اور اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ “میں ایک چھوٹی سی وارننگ دوں گا، ہم آج رات ایران پر سخت حملہ کرنے والے ہیں۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ان کا کہنا تھا کہ وہ ایرانیوں سے خوش نہیں ہیں اور ایران کے ساتھ موجودہ صورتحال کو جنگ نہیں بلکہ “ایران کی ڈی نیوکلیئرائزیشن” قرار دیا۔
