امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرے گا جبکہ انقرہ کو جدید ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کے حوالے سے بھی جلد فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ پابندیاں 2019 ترکیہ کی جانب روس سے ایس۔400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کے بعد 2020 میں لگائی گئیں تھیں، جن کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور روایتی طور پر اچھے تعلقات کھٹائی میں پڑ گئے تھے۔ ترکیہ کے اس اقدام کے بعد وہ امریکا کے ایف-35 طیارے خریدنے کے لیے بھی نااہل ہو گیا تھا۔
نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کے آغاز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ “ہم ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے جا رہے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ ایف-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت کے معاملے پر بھی فیصلہ کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ترک صدر ایردوان کے ساتھ ملاقات میں دوطرفہ تجارت سمیت دیگر اہم علاقائی اور دفاعی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔
.@POTUS on Turkey: “We’re going to be taking the sanctions off… It’s time to do that.” pic.twitter.com/TuWg9KTnRe
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 7, 2026
واضح رہے کہ امریکا نے 2020 میں روسی ساختہ ایس-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری پر ترکیہ کے خلاف کاؤنٹرنگ امریکا’ز ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ (CAATSA) کے تحت پابندیاں عائد کی تھیں۔ اسی فیصلے کے تحت ترکیہ کو ایف-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام سے بھی خارج کر دیا گیا تھا، جسے انقرہ نے غیرمنصفانہ اور غیرقانونی قرار دیا تھا۔
تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز نے ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اس دورے کے دوران ترکیہ کو ایف-35 طیارے فروخت کرنے کا اشارہ دے سکتے ہیں، لیکن اس معاہدے کی راہ میں امریکی قانون اور کانگریس سے متعلق بعض رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔
11 برسوں بعد ترکیہ کا سرکاری دورہ
امریکی صدر ٹرمپ نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے آج ہی ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچے ہیں، جہاں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے ان کا استقبال کیا۔
یہ 11 سالوں میں کسی بھی امریکی صدر کی جانب سے کیا گیا ترکیہ کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ آخری دورہ بارک اوباما نے 2015 میں کیا تھا جبکہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات قائم ہونے سے اب تک امریکی صدور کی جانب سے آج تک صرف 6 بار ترکیہ کے سرکاری دورے کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب 11 برسوں بعد کیے جانے والا یہ دورہ بھی دو طرفہ تعلقات کے لیول پر نہیں کیا جا رہا بلکہ اس کا بنیادی مقصد نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت ہے، جہاں صدر ٹرمپ اتحادی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران ممکنہ طور پر دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور دیگر اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
سرخ کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین کیوں بچھایا گیا؟
صدر ٹرمپ کے طیارے کی انقرہ کے ایتمسگت ایئر بیس پر لینڈنگ کے بعد ان کے اعزاز میں روایتی استقبالیہ منعقد کیا گیا۔
اس موقع پر سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جو ترک روایات سے وابستہ ایک علامتی روایت ہے، جبکہ انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

ترکیہ سرکاری مہمانوں کے استقبال کے لیے سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین استعمال کرتا ہے کیونکہ ترک تاریخ اور روایات میں فیروزی رنگ کو ‘شاہی اور عظمت’ کا رنگ سمجھا جاتا ہے۔ یہ رنگ ترک ثقافت، تاریخ، اور ملکی وقار کی عکاسی کرتا ہے۔
ترک صدر رجب طیب ایردوان خود رن وے پر موجود تھے اور انہوں نے امریکی صدر کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان قریبی تعلقات کا اظہار اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ متعدد مواقع پر ایردوان کو اپنا “دوست” قرار دے چکے ہیں۔
.@POTUS touches down in Ankara, Turkey, where he is greeted by President Erdogan ahead of the NATO Summit 🇺🇸🇹🇷 pic.twitter.com/4cVo69eJLJ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 7, 2026
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے ترکیہ میں تعینات امریکی سفیر اور شام و عراق کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی ٹام بیرک، نیٹو میں امریکی سفیر میٹ وائٹیکر اور امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی ایئر بیس پر موجود تھے۔
نیٹو کے اتحادی مملاک پر ٹرمپ کا دباؤ
صدر ٹرمپ کی جانب سے 77 سال سے جاری نیٹو اتحاد کے رکن ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اتحادی ممالک دفاعی بجٹ میں اضافے کے حوالے سے “نمایاں پیش رفت” کر چکے ہیں، جو امریکی صدر کا ایک اہم مطالبہ رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی سلامتی بھی نیٹو رہنماؤں کے درمیان زیرِ بحث اہم موضوعات میں شامل ہوگی، کیونکہ خطے کی کشیدہ صورتحال عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
دریں اثنا، صدر ٹرمپ کی یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے بھی ملاقات متوقع ہے، جس میں روس۔یوکرین جنگ اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد 24 گھنٹوں میں جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ان کی انتظامیہ اب تک اس تنازع کے مستقل حل تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
امریکا اور ترکیہ کے تعلقات
امریکی ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ کے مطابق امریکا اور ترکیہ کے تعلقات کی ابتدا 1831 میں ہوئی، جبکہ موجودہ جمہوریہ ترکی کے ساتھ باضابطہ تعلقات 1927 سے استوار ہیں۔
1947 میں دونوں ممالک نے اکنامک اینڈ ٹیکنیکل کوآپریشن ایگریمنٹ پر دستخط کیے جس کے بعد دو طرفہ سالانہ تجارت کا حجم 20 کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جسے صدر ٹرمپ اور صدر ارگان نے 100 کھرب ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے۔
ترکی 1952 سے نیٹو کا اہم رکن ہے اور خطے میں امریکا کا کلیدی دفاعی اور سٹریٹیجک شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف تعاون، علاقائی سلامتی اور دفاعی معاملات میں بھی قریبی اشتراک رکھتے ہیں۔ لیکن شام میں کرد ملیشیا کی امریکی حمایت، تُرک دفاعی معاہدوں اور امریکا میں ایف-35 طیاروں کی فراہمی پر جاری بحث جیسے امور کے سبب ان میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔
جون 2026 میں امریکی قانون سازوں کی مخالفت کے باوجود، ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ترکیہ کو 70 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے درجنوں لڑاکا طیاروں کے انجن فروخت کرنے کی حامی بھری۔
ایف-35 طیاروں کی ڈیل
اس کے علاوہ ترکیہ کی جانب سے ایف-35 جنگی طیاروں کے حصول کی کوششیں جاری ہیں اور صدر ٹرمپ کی جانب سے ان کی فراہمی پر آمادگی کے حوالے سے بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ البتہ امریکی کانگریس کے کچھ ارکان اس کی مخالفت بھی کر رہے ہیں تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ترکیہ میں جاری نیٹو اجلاس کے دوران ٹرمپ ترکیہ کو طیاروں کی فروخت پر آمادگی کا اشارہ دے سکتے ہیں۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ان کے پہلے دورِ صدارت میں عائد کی گئی پابندی اور بعد ازاں امریکی قانون کا حصہ بھی بنائے جانے والی پالیسی سے انحراف تصور کیا جائے گا۔
ترکیہ کو ایف-35 طیاروں کی فروخت نہ صرف امریکا کے نیشنل ڈیفنس اتھارائیزیشن ایکٹ کے خلاف ہے بلکہ کئی امریکی اراکینِ کانگریس اور اسرائیل کے وزیراعظم بھی اس ڈیل کے سخت مخالفت کرتے آ رہے ہیں۔
