چین میں ایران کے سفیر عبرالرضا رحمانی فضلی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز سے نئی فیس وصول کی جائے گی جبکہ دوست ممالک کو خصوصی رعایت ملے گی۔
عبدالرضا رحمانی فضلی نے بیجنگ میں منعقدہ ورلڈ پیس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک عمان کے ساتھ ’باہمی تعاون اور اشتراک‘ کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ کیلئے ’نئے انتظامات‘ پر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز جس کے پانیوں میں آتی ہے ہم یقیناً فیس وصول کریں گے، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ فیس ’ٹال‘ نہیں ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ نئے انتظامات آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ طور پر گزرنے، جہازوں کی نگرانی، بڑی تعداد میں جہازوں کی آمد و رفت سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے اور اس کے تدارک سے متعلق ہوں گے۔
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ ہم یقینی طور پر ان ممالک کیلئے خصوصی رعایت پر غور کریں گے جو ہمارے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں اور خصوصاً مشکل وقت میں ساتھ کھڑے رہے۔
آبنائے ہرمز غیر علاقائی طاقتوں کے فوجی مظاہرے کا میدان نہیں ، ایران کا سخت پیغام
گزشتہ روز ایران نے غیر ملکی فورسز کو آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فوجی نقل و حرکت سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز غیر علاقائی طاقتوں کے فوجی مظاہرے کا میدان نہیں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمزکی سلامتی کا ضامن ہونے کے ناطے آبی گزرگاہ میں کسی بھی فوجی نقل و حرکت کے خلاف خبردار کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی ساحلی ریاستوں کی ذمہ داری ہے، بحران پیدا کرنے والے اپنی مہم جوئی کے نتائج کے ذمہ دارخود ہوں گے۔
