ضلع کچہری لاہور کی مقامی جوڈیشل عدالت نے توہین مذہب کے الزام میں درج مقدمے میں گرفتار یوٹیوبر ریحان طارق کو چھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر تفتیشی ٹیم کے حوالے کر دیا ۔
ریحان طارق پر توہین مذہب اور پیکا ایکٹ کی 295اے سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا یہ مقدمہ ڈپٹی ڈائریکٹرسائبر کرائم رضوان صابر کی مدعیت میں درج کیا گیا ،ریحان طارق کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) اور سائبر کرائم کی ٹیم نے برطانیہ سے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر حراست میں لیا تھا۔

بدھ کے روز نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی تفتیشی ٹیم نے گرفتار ریحان طارق کو سخت سکیورٹی میں لاہور کی ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی عدالت میں پیش کیا اور تفتیش کے لیے ایک ہفتے کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم کا نام پہلے ہی پروونشل نو فلائی لسٹ (PNIL) میں شامل تھا۔
اس کی بنا پر انہیں ایئرپورٹ پر روکا گیا تفتیشی ٹیم نے عدالت کو بتایا کہ ریحان طارق کے خلاف مذہبی حلقوں کی جانب سے متنازع پوڈ کاسٹ مواد پر تحریری شکایات موصول ہوئی تھیں۔

معاملے کی گہرائی سے تفتیش، ان کے ڈیجیٹل اکاؤنٹس، موبائل فون اور پوڈ کاسٹ کے اصل ڈیٹا / ریکارڈنگ کو برآمد کرنے کے لیے چھ روزہ جسمانی ریمانڈ ضروری درکار ہے ۔
متنازعہ ٹوئٹس کا معاملہ: یوٹیوبر رضی طاہر کی بعد ازگرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد
عدالت نے ملزم ریحان طارق کا چھ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا اور آئندہ سماعت پر تفتیشی رپورٹ طلب کرلی۔
