واشنگٹن: امریکی محکمہ انصاف نے بھارت سے منسلک منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے “آپریشن ہارڈ بال” کا آغاز کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ بھارت سے تعلق رکھنے والے تین منظم جرائم پیشہ گروہوں کے 37 افراد پر بھتہ خوری، منشیات کی اسمگلنگ، قتل اور دیگر سنگین جرائم کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں، جبکہ 24 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور 10 دیگر مفرور ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ بھارتی گینگز امریکا اور یورپ میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر منظم جرائم میں ملوث رہے ہیں، جبکہ کارروائی کے دوران تقریباً ایک ہزار کلوگرام کوکین، ہیروئن، بھاری مقدار میں نقد رقم اور آتشیں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہردیپ سنگھ نِجّر قتل کیس کی تحقیقات کے دوران لارنس بشنوئی اور گولڈی برار گینگ کے مبینہ کردار سے متعلق بھی شواہد سامنے آئے، جن کے بعد ان پر فردجرم عائد کی گئی۔
امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے گولڈی برار کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے 50 ہزار ڈالر انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف نے کہا کہ بھارت کا کرپٹ نظام گینگسٹرز کا سہولت کار ہے، پولیس اور افسران بھتہ خوری میں ملوث ہیں۔ اور کینیڈا کی حکومت پہلے ہی بھارتی نژاد بشنوئی گینگ کو باقاعدہ دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے۔
امریکی استغاثہ کے مطابق لارنس بشنوئی اور جگو گینگ کے ارکان بھارتی جیلوں میں قید ہونے کے باوجود اسمگل شدہ موبائل فونز کے ذریعے بیرون ملک مجرمانہ سرگرمیوں اور ٹارگٹ کلنگ کی ہدایات دیتے رہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی سرگرمیاں امریکا، کینیڈا اور یورپ کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، جبکہ غیر ملکی سرزمین پر ٹارگٹ کلنگ اور پراکسی عناصر کا استعمال بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ایران پر پھر بمباری: پاسداران انقلاب کا امریکی ڈرون مارگرانے کا دعویٰ
دوسری جانب بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سکھ کمیونٹی کو دھمکانے اور نشانہ بنانے کے الزامات نے بھارت کی سیکیورٹی ساکھ کا جنازہ نکال دیا۔
