فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں تقریباً 2 دہائیوں سے قائم حکومتی ڈھانچے کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد ایک ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے ذریعے سول انتظامیہ کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حماس کے حکومتی میڈیا آفس کے سربراہ اسماعیل الثوابته نے بتایا ہے کہ حکومتی ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرّا نے باضابطہ طور پر استعفیٰ دے دیا ہے اور کمیٹی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اختیارات کی منتقلی کا عمل آسان بنایا جا سکے۔
یہ اقدام حماس کی جانب سے ایک بڑی سیاسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جو 2007 سے غزہ پر حکمرانی کر رہی ہے، جب اس نے فatah کو ہٹا کر کنٹرول حاصل کیا تھا۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ تنظیم نے یہ قدم اس لیے اٹھایا ہے تاکہ اسرائیل کو کسی بھی جارحیت یا جنگ جاری رکھنے کا جواز نہ ملے۔ انہوں نے کہا کہ حماس غزہ کے انتظامی امور نیشنل کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔
غزہ کے لیے نیشنل کمیٹی برائے انتظام (این سی اے جی)، جس کی سربراہی فلسطینی ٹیکنوکریٹ علی شعتھ کر رہے ہیں، اب علاقے کے انتظامی معاملات سنبھال سکتی ہے۔ یہ کمیٹی اس امن بورڈ کے تحت قائم کی گئی تھی، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2025 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد تشکیل دیا تھا۔
اے ایف پی کے مطابق حماس نے اپنے اس فیصلے سے دیگر فلسطینی دھڑوں کو بھی آگاہ کر دیا ہے، جنہوں نے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جلد ہونے کا امکان
تاہم یہ کمیٹی تاحال غزہ منتقل نہیں ہو سکی، جس کی ایک بڑی وجہ اسرائیل کی جانب سے اعتراضات بتائے جاتے ہیں۔ دوسری جانب جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں، جس میں حماس کے اسلحہ چھوڑنے اور اسرائیلی افواج کے انخلا جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔
حماس کا مؤقف ہے کہ کسی بھی پیش رفت سے قبل ایک مؤثر فلسطینی انتظامیہ کا قیام ضروری ہے، جبکہ اسرائیل نہ تو حماس کی واپسی قبول کرتا ہے اور نہ ہی فوری طور پر فلسطینی اتھارٹی کو کنٹرول دینے پر آمادہ ہے۔
