فروری 28 سے جنگ اور امن کی آنکھ مچولی کھیلنے والے امریکا کے ایران کے ساتھ مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا اگلا دور دو ہفتوں کے اندر ہونے کا امکان ہے۔
العربیہ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے اس اہم بیٹھک میں ایران پر لگی عالمی پابندیوں کو ہٹانے، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور ایران کے ایٹمی پروگرام جیسے بڑے اور حساس معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
اس سے قبل 22 جون کو فریقین کے درمیان پاکستان اور قطر کی ثالثی میں بلواسطہ مذاکرات سوئٹزر لینڈ میں ہوئے تھے جہاں دونوں ممالک نے آئندہ 60 روز میں حتمی معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا، جبکہ اعلیٰ سطح کی نگرانی کے لیے کمیٹی قائم کرنے اور مزید تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی۔
سعودی عرب کے سرکاری نیوز چینل نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور 11 جولائی کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔
پاکستان کے مؤقر انگریزی اخبار ڈان نے سفارتی ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹیکنیکل مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد اور سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں سے کسی ایک مقام پر ہوگا، لیکن اسلام آباد کے چانسز زیادہ ہیں۔
اخبار نے مزید لکھا ہے کہ اگرچہ مذاکرات کے مقام کا تعین کرنا ابھی باقی ہے، تاہم ان کا انعقاد ممکنہ طور پر 11 جولائی کو ہی ہوگا۔
سینیئر صحافی کامران یوسف نے ذرائع سے ایکسپریس نیوز کے لیے رپورٹ کیا ہے کہ سویٹزر لینڈ اور دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے باوجود ایرانی قیادت اگلے مذاکرات کیلئے اسلام آباد کو زیادہ اہمیت دیتی ہے کیونکہ پاکستان کے ایران اور خلیجی ریاستوں سے بہترین تعلقات ہیں اور بطور ثالث اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
دوسری جانب کچھ میڈیا رپورٹس میں مذاکرات اسلام آباد میں ہی ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے لیکن ان کے انعقاد کے لیے مختلف تاریخیں سامنے آئی ہیں جن میں 11، 14، اور 20 جولائی شامل ہیں۔ تاہم ابھی تک امریکا، ایران، یا پاکستان کی طرف سے باضابطہ طور پر اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: شہید آیت اللہ خامنہ ای کے قاتل اپنے انجام سے نہیں بچ سکیں گے ، ایرانی آرمی چیف
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز بھی اسلام آباد میں ہوا تھا، پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ تاہم اسلام آباد ٹالکس کے 11 اور 12 اپریل کے اس دور میں کئی اہم معاملات پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔
بعد ازاں پاکستان نے اپنی سفارتی سرگرمیاں جاری رکھیں اور دونوں فریقوں سے مسلسل رابطے برقرار رکھے، جس کے نتیجے میں مذاکراتی عمل دوبارہ بحال ہوا اور دونوں ممالک نے 18 جون کو تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے۔
اگرچہ اس معاہدہ میں فریقین نے 60 دنوں کے لیے جنگ بندی کر کے اس دوران دیرینہ مسائل پر بات چیت کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم آبنائے ہرمز کے تنازع کی وجہ سے اطراف سے معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزی ہوئی جس سے فریقین کے مابین دوبارہ مستقل جنگ کے خطرات بڑھ گئے۔
اس بگڑتی صورتحال میں پاکستان اور دیگر ثالث ممالک نے سفارتی کوششیں جاری رکھیں جن کی بدولت امریکا اور ایران کے نمائندے سوئٹزرلینڈ میں دوبارہ مذاکرات پر آمادہ ہوئے اور حتمی معاہدے کی طرف پیش رفت کا دوبارہ آغاز ہوا۔
رپورٹس کے مطابق ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے ایرانی وفد کی نمائندگی کے بارے میں باضابطہ اعلان سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد کیا جائے گا۔
