برطانیہ میں کی گئی ایک نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جس میں ننھے بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے والدین کی جانب سے موبائل یا ٹیبلیٹ دے دیا جاتا ہے۔
برطانیہ کی چار جامعات کے محققین کی جامع تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ دو سال سے کم عمر بچوں کو موبائل فون، ٹیبلٹ یا دیگر ڈیجیٹل اسکرینز کا باقاعدہ استعمال کروانا ان کی صحت، نشوونما اور معیارِ زندگی پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے، اس لیے اس عمر میں اسکرین ٹائم سے حتیٰ الامکان گریز کیا جانا چاہیے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ شیر خوار بچوں کو اسکرینز سے روشناس کرانے کے نتیجے میں زبان سیکھنے میں تاخیر، والدین سے جذباتی وابستگی میں کمی، جسمانی کھیل کود کے مواقع محدود ہونے، نیند کے مسائل، حد سے زیادہ ذہنی تحرک، بینائی پر منفی اثرات اور بچپن میں موٹاپے جیسے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
نیند کی کمی اور کینسر کے درمیان تعلق ، نئی تحقیق میں چونکا دینے والا انکشاف
ماہرین کے مطابق اس وقت توجہ زیادہ تر نوجوانوں اور سوشل میڈیا کے استعمال پر مرکوز ہے، کم عمر بچوں کے اسکرین استعمال سے متعلق پالیسی سازی میں “خطرناک خلا” موجود ہے، حالانکہ اسکرینز اب روزمرہ والدین کی زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
تحقیق کے سربراہ اور یونیورسٹی آف لیڈز کے سینئر لیکچرر رافے کلیٹن کا کہنا ہے کہ والدین اپنی اسکرین عادات کے حوالے سے واضح رہنمائی نہ ہونے کے باعث غیر ارادی طور پر بچوں کو بھی اسکرینز کے ساتھ غیر صحت مند تعلق استوار کرنا سکھا رہے ہیں، اس رویے کو تبدیل کرنا ہو گا۔
تحقیق میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے جاری کردہ اسکرین ٹائم گائیڈ لائنز پر نظرثانی کی جائے۔ موجودہ ہدایات میں اگرچہ دو سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسکرین سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے، تاہم والدین کے ساتھ مشترکہ سرگرمیوں کے لیے کچھ گنجائش رکھی گئی ہے، جسے محققین گمراہ کن قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ دو سال سے کم عمر بچوں کو کسی بھی مقصد کے لیے باقاعدہ اور دانستہ طور پر اسکرین استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ اگرچہ ارد گرد موجود اسکرینز سے مکمل بچاؤ ممکن نہیں، لیکن جان بوجھ کر اضافی اسکرین ٹائم دینا خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
فرانس میں ایبولا وائرس کا پہلا کیس سامنے آگیا
محققین نے خبردار کیا کہ کم عمر بچے اگر رونے یا بے چینی کی صورت میں والدین کی توجہ کے بجائے ڈیجیٹل ڈیوائسز کے ذریعے پرسکون کیے جائیں تو اس سے ان کی جذباتی اور سماجی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں حکومت کو “بیبی اسکرین ٹائم رسک اسیسمنٹ” متعارف کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ ایسے بچوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے جن میں نشوونما سے متعلق مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔
ادھر سابق برطانوی وزیر اینڈریا لیڈسم نے اس تحقیق کو والدین اور پالیسی سازوں کے لیے “خطرے کی گھنٹی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ زندگی کے ابتدائی ایک ہزار ایک دن انسانی نشوونما کا سب سے اہم دور ہوتے ہیں، اس لیے اس عرصے میں اسکرینز کے ممکنہ نقصانات کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔
انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کی تمام تر ذمہ داری والدین پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے اور بچوں کے لیے موزوں قرار دی جانے والی گمراہ کن ڈیجیٹل مصنوعات اور مواد کی تشہیر سے گریز کرنا چاہیے۔
