وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، جموں و کشمیر کے عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت کی اصولی حمایت پر ثابت قدم ہے۔
یومِ الحاقِ پاکستان پراپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان موجود ان مضبوط اور دیرینہ رشتوں کی عکاسی ہے جو مشترکہ تاریخ، عقیدے، ثقافت، جغرافیے اور باہمی وابستگی پر استوار ہیں۔ سب سے بڑھ کر، یہ اس بنیادی اصول کو اجاگر کرتا ہے کہ کشمیری عوام کی آزادانہ طور پر ظاہر کردہ خواہشات اور امنگوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif’s Message on the Occasion of Youm-e-Ilhaq-e-Pakistan (Kashmir’s Accession to Pakistan Day) 19 July 2026.
Youm-e-Ilhaq-e-Pakistan (Kashmir’s Accession to Pakistan Day) is observed annually to commemorate the historic resolution adopted by…
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) July 18, 2026
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کا غیر حل شدہ تنازع آج بھی خطے کے امن و سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب اس تنازع کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن طریقے سےحل کیا جائے۔
مقبوضہ کشمیر متنازع ،فیصلہ عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے، امیر مقام
شہبازشریف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام، بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام کی اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جاری منصفانہ جدوجہد، ان کی جرات، استقامت اور ثابت قدمی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کشمیری عوام کی غیر متزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا تا وقت کہ وہ اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کو آزادانہ طور پر استعمال کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔
یاد رہے کہ یومِ الحاقِ پاکستان ہر سال 19 جولائی کو اس تاریخی قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے جو 19 جولائی 1947 کو سری نگر میں منعقدہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔
قراردادیں ثبوت ہیں کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اندورنی مسئلہ نہیں ہے، بلاول بھٹو
یہ متفقہ قرارداد برصغیر کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن مرحلے پر جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی اجتماعی سیاسی امنگوں کی آئینہ دار تھی۔ اس قرارداد میں ریاست کے پاکستان سے الحاق کی خواہش کا اظہار کیا گیا اور ڈوگرہ حکمرانوں پر زور دیا گیا کہ وہ عوام کی خواہشات کا احترام کریں۔ یہ قرارداد آج بھی جموں و کشمیر کے عوام کی سیاسی جدوجہد کا ایک اہم تاریخی سنگِ میل سمجھی جاتی ہے۔
