فرانس نے جمہوریہ کانگو میں جاری ایبولا وبا سے منسلک اپنے پہلے کیس کی تصدیق کر دی ہے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق متاثرہ شخص ایک ڈاکٹر ہے جو کانگو کے متاثرہ علاقے میں انسانی ہمدردی کے مشن سے واپس آیا تھا۔ مریض کو فوری طور پر الگ تھلگ کرکے ایک خصوصی طبی مرکز میں منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
فرانسیسی حکام نے مریض کے قریبی رابطوں کا سراغ لگانے (کانٹیکٹ ٹریسنگ) کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عام عوام کے لیے خطرہ انتہائی کم ہے۔
دوسری جانب کانگو میں ایبولا کی حالیہ وبا اب تک ایک ہزار سے زائد افراد کو متاثر کر چکی ہے، جبکہ 260 سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
نیند کی کمی اور کینسر کے درمیان تعلق ، نئی تحقیق میں چونکا دینے والا انکشاف
ماہرین صحت کے مطابق اس وبا کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ایبولا وائرس کی نایاب بندی بوجیو (Bundibugyo) قسم ہے، جس کے خلاف فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی کانگو میں جاری تنازعات اور سکیورٹی کی خراب صورتحال وبا پر قابو پانے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔
فرانسیسی حکومت نے متاثرہ علاقوں سے واپس آنے والے امدادی کارکنوں کے لیے نگرانی کے خصوصی اقدامات نافذ کر دیے ہیں اور یقین دہانی کرائی ہے کہ وائرس کے مقامی سطح پر پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی اور حیاتیاتی تحفظ (بایو سیفٹی) پروٹوکولز پر عمل کیا جا رہا ہے۔
