حکومت نے پیٹرول و ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا۔
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 18 جولائی سے 20 جولائی تک ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن پیٹرولیم ڈویژن نے جاری کیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں نمایاں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ، زرعی شعبے اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 18 جولائی سے 20 جولائی تک مؤثر رہے گا۔ نئی قیمتیں تین دن کیلئے مقرر کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نظام تبدیل کرتے ہوئے انہیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس مقصد کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو روزانہ قیمتوں کے تعین کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ قیمتیں اوگرا کی ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ وہ عالمی حالات کے تناظر میں افسوس کے ساتھ عوام کے سامنے آئے ہیں کیونکہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں ایک بار پھر جنگی کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جس کے باعث عالمی تیل کی منڈی شدید دباؤ اور بحران کا شکار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت چند روز کے دوران 110 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت بھی 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق عالمی توانائی منڈی میں دوبارہ قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے اثرات دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی یومیہ قیمت کا بینچ مارک گزشتہ سات روز کی اوسط عالمی قیمت ہوگی، جبکہ اوگرا روزانہ نئی قیمتیں اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار سے قیمتوں کے تعین میں شفافیت آئے گی اور عوام بھی یہ سمجھ سکیں گے کہ قیمت کس بنیاد پر مقرر کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے مطابق اوگرا حکومت سے منظوری لیے بغیر قیمتوں کا تعین کر سکے گا۔
