وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے کے 2 لاکھ 75 ہزار غریب خاندانوں کو مفت سولر ہوم سسٹم فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ منصوبے کے تحت سولر سسٹمز کی تقسیم اور تنصیب کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت سولر ہوم سسٹم منصوبے سے متعلق جائزہ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس منصوبے پر 18 ارب 20 کروڑ 60 لاکھ روپے لاگت آئے گی، منصوبے کے تحت 2 لاکھ 75 ہزار مستحق خاندانوں کو سولر ہوم سسٹم فراہم کیے جائیں گے، جن میں ایک لاکھ 32 ہزار آف گرڈ اور ایک لاکھ 43 ہزار آن گرڈ صارفین شامل ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ہر مستحق خاندان کو 180 واٹ کا سولر پینل، لیتھیم بیٹری، پنکھا اور ایل ای ڈی لائٹس فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں سستی اور ماحول دوست بجلی میسر آ سکے۔ اب تک صوبے کے مختلف اضلاع میں 11 ہزار 571 سولر ہوم سسٹمز نصب کیے جا چکے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق گھوٹکی، عمرکوٹ، شہید بینظیر آباد، دادو، تھرپارکر، ٹھٹھہ اور کراچی سمیت مختلف اضلاع میں سولر سسٹمز کی تنصیب کا عمل جاری ہے۔ یہ منصوبہ اپریل 2025 میں شروع ہوا تھا اور اسے جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ آن گرڈ منصوبے میں وہ محفوظ صارفین شامل ہیں جو ماہانہ 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں، جبکہ آف گرڈ منصوبے کے تحت دور دراز، کچے، کوہستانی اور صحرائی علاقوں میں رہنے والے غریب خاندانوں کو شامل کیا گیا ہے۔
بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ قومی توانائی و ٹرانسپورٹ کارپوریشن سولر کٹس فراہم کر رہی ہے جبکہ سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (SRSO) مفت تنصیب، دیکھ بھال اور دو سالہ وارنٹی کی ذمہ دار ہے۔
تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ، پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ بھی بڑھنے کا امکان
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے پر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ مستحق خاندانوں کو جلد از جلد مفت سولر ہوم سسٹمز کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
