نئی ریسرچ میں انکشاف ہوا ہے کہ نیند کی کمی اور بے خوابی 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔
امریکن سوسائٹی آف کلینیکل آنکولوجی کی سالانہ کانفرنس میں پیش کی گئی تحقیقات میں امریکا کے 18 سے 50 سال کی عمر کے 1 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ بے خوابی یا خراب نیند کے شکار افراد میں آنتوں، چھاتی اور اوویرین کینسر کا خطرہ نسبتاً زیادہ تھا۔
محققین کے مطابق بعض کیسز میں 50 سال سے کم عمر بے خوابی کے مریضوں میں 5 سال کے اندر کینسر کی تشخیص کا امکان 3 گنا تک زیادہ دیکھا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی کینسر کے خطرے سے جڑا ایک اہم عنصر ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
بچوں میں شوگر کی بیماری کو ایک خاص وقت تک روکنے والی دنیا کی پہلی دوا کی منظوری
اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کم عمر افراد میں کینسر کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ 1990 میں نوجوانوں میں کینسر کے 18 لاکھ 20 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جو 2019 تک بڑھ کر 32 لاکھ 60 ہزار سے زائد ہو گئے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ تحقیق صرف نیند کی کمی اور کینسر کے درمیان تعلق کی نشاندہی کرتی ہے، یہ ثابت نہیں کرتی کہ بے خوابی براہِ راست کینسر کا سبب بنتی ہے۔
ماہرین کے مطابق طرزِ زندگی کے دیگر عوامل، جیسے موٹاپا، سگریٹ نوشی، ورزش کی کمی وغیرہ بھی اس خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے مناسب نیند، صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش اور تمباکو نوشی سے پرہیز انتہائی اہم ہیں۔
