پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کے نظام پر صنعتی شراکت داروں نے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیرِ صدارت پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کے نظام سے متعلق ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل ، آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان ، ریفائنریز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پیٹرولیم ڈویژن کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں صنعتی شراکت داروں نے مجوزہ نظام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنی تجاویز اور آراء پیش کیں، وفاقی وزیر نے کہا کہ نئے نظام کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ایک شفاف فارمولے کے ذریعے کیا جائے گا جو مارکیٹ کی حقیقی صورتحال کو مدنظر رکھے گا۔
علی پرویز ملک کے مطابق اس نظام سے ناجائز منافع خوری، استحصال اور غیر معمولی مالی فوائد حاصل کرنے کی گنجائش کم ہوگی جبکہ عوام کو سیاسی مصلحتوں کے باعث پیدا ہونے والے قیمتوں کے غیر ضروری اتار چڑھاؤ سے بھی تحفظ ملے گا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ یہ اصلاحات وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت کی مرحلہ وار ڈی ریگولیشن حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہیں، جس کا مقصد بتدریج حکومتی مداخلت کم کرنا ہے۔
اوگرا نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ادارہ روزانہ قیمتوں کے نئے نظام کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور بروقت قیمتوں کے اجرا کے لیے اپنے نظام کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں سپلائی چین، ذخائر کے انتظام، ریئل ٹائم ڈیٹا کی دستیابی اور دیگر عملی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ روزانہ قیمتوں کے نظام کے نفاذ کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو صنعت کے ساتھ مشاورت سے تمام عملی اور تکنیکی مسائل کو اتفاقِ رائے سے حل کرے گی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ ہوگا، اوگرا کو مکمل اختیار دینے کا فیصلہ
انہوں نے پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کو ہدایت کی کہ صنعتی شراکت داروں کے ساتھ مزید مشاورتی اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ نئے نظام کو مؤثر انداز میں حتمی شکل دی جا سکے، علی پرویز ملک نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ حکومت عوامی مفاد کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم صنعت کے پائیدار استحکام کے لیے بھی پُرعزم ہے۔
