اسلام آباد، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نظام تبدیل کرتے ہوئے انہیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس مقصد کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو روزانہ قیمتوں کے تعین کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ قیمتیں اوگرا کی ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ وہ عالمی حالات کے تناظر میں افسوس کے ساتھ عوام کے سامنے آئے ہیں کیونکہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں ایک بار پھر جنگی کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جس کے باعث عالمی تیل کی منڈی شدید دباؤ اور بحران کا شکار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت چند روز کے دوران 110 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت بھی 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق عالمی توانائی منڈی میں دوبارہ قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے اثرات دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی یومیہ قیمت کا بینچ مارک گزشتہ سات روز کی اوسط عالمی قیمت ہوگی، جبکہ اوگرا روزانہ نئی قیمتیں اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار سے قیمتوں کے تعین میں شفافیت آئے گی اور عوام بھی یہ سمجھ سکیں گے کہ قیمت کس بنیاد پر مقرر کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے مطابق اوگرا حکومت سے منظوری لیے بغیر قیمتوں کا تعین کر سکے گا۔ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کے شعبے کو مرحلہ وار ڈی ریگولیشن کی طرف لے جا رہی ہے تاکہ قیمتوں کا نظام زیادہ شفاف، مؤثر اور مارکیٹ کی حقیقی صورتحال کے مطابق ہو۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود حکومت عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے، حکومت اب تک پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کی مد میں 130 ارب روپے خرچ کر چکی ہے اور سبسڈی کا پروگرام آج بھی جاری ہے، عوام پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا، جبکہ مشکل حالات میں عوام نے بھی صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مستقل جنگ بندی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں، تاہم اس کے باوجود جنگی صورتحال میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے براہ راست اثرات عالمی توانائی منڈی پر مرتب ہو رہے ہیں۔
علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ حکومت آئل سیکٹر میں مصنوعی قلت پیدا کرنے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ عوام کو بلاجواز مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے اور حکومت نے بروقت فیصلوں کے ذریعے ملک کو توانائی بحران سے محفوظ رکھا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، تاہم حکومت کی مؤثر حکمت عملی کی بدولت پاکستان میں ایک دن بھی تیل کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ بحران کے دوران بعض ممالک میں پیٹرول کے حصول کے لیے طویل قطاریں لگ گئیں، لیکن پاکستان نے مختلف ممالک سے بروقت کارگو منگوا کر اپنی توانائی ضروریات پوری کیں اور عوام کو کسی بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین مکمل طور پر شفاف انداز میں کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے اوگرا قیمتیں روزانہ ویب سائٹ پر جاری کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا، بلکہ جنگ سے قبل لیوی جس سطح پر تھی، آج اس سے بھی کم ہے۔
خطے میں کشیدہ صورتحال، پاکستان نے جولائی کیلئے مزید ایل این جی خریدنے کا فیصلہ کر لیا
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر 130 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی، جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ، پبلک ٹرانسپورٹ، موٹر سائیکل سواروں اور زرعی شعبے کو خصوصی ریلیف دیا گیا تاکہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے کے اثرات کم سے کم عوام تک منتقل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کسی بھی آئل کمپنی کو غیر معمولی منافع کمانے کی اجازت نہیں دی اور حکومت ناجائز منافع خوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ مستقبل میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں اور پاکستان کو تیزی سے الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقل ہونا ہوگا تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے اور توانائی کے شعبے کو زیادہ پائیدار بنایا جا سکے۔
