مغربی یورپ میں ہلاکتوں کا سبب بننے والی شدید گرمی کی لہر اب مشرق کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کے باعث جرمنی اور پولینڈ میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
برطانیہ، فرانس اور سوئٹزرلینڈ میں جون کے دوران ریکارڈ گرمی پڑی، جبکہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ یہ ہیٹ ویو مزید ریکارڈ توڑ سکتی ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کے مطابق فرانس کی سرحد کے قریب شہر ساربرکن میں درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، تاہم یہ ابتدائی اعداد و شمار ہیں۔
فرانس میں اس شدید گرمی کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 40 ڈگری سے زائد درجہ حرارت نے ٹرین سروس، بجلی کی پیداوار اور روزمرہ سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ کئی مقامات پر اسکول بند، تقریبات ملتوی اور الکحل پر پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔
ماہر موسمیات کارسٹن برانڈٹ کے مطابق ہفتے کے اختتام پر گرمی اپنی شدت کی انتہا کو پہنچ سکتی ہے، اور جرمنی کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
شدید گرمی کے باعث جرمنی میں آئرن مین یورپی چیمپئن شپ کے روٹس کم کر دیے گئے، جبکہ ریلوے کمپنی ڈوئچے بان نے مسافروں کو بغیر فیس ٹکٹ منسوخ کرنے کی سہولت دے دی ہے۔ حکام کے مطابق شدید دھوپ اور ممکنہ طوفانوں کے باعث ریلوے انفراسٹرکچر کو نقصان کا خدشہ ہے۔
یورپ بھر میں ثقافتی مقامات بند، زراعت متاثر اور اسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ہیٹ ویو “اومیگا بلاک” نامی موسمی پیٹرن کے باعث پیدا ہوئی، جو گرم ہوا کو طویل عرصے تک ایک ہی خطے میں روکے رکھتا ہے۔
View this post on Instagram
عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق یہ گرمی کی لہر مہینے کے آخر تک وسطی یورپ اور بلقان تک پھیل سکتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے بغیر اس نوعیت کی شدید گرمی تقریباً ناممکن تھی، جبکہ موجودہ حالات میں رات کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب لندن میں ہونے والے کلائمیٹ ایکشن ویک کے دوران بھی شدید گرمی کے اثرات نمایاں رہے، جہاں بعض تقریبات کو گرمی کے باعث منسوخ کرنا پڑا۔ برطانوی حکام نے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔
