اسپین میں شدید گرمی کی لہر کے باعث صرف چار روز کے دوران 212 افراد ہلاک ہو گئے۔ جبکہ یورپ کے مختلف ممالک بھی غیرمعمولی درجہ حرارت کی لپیٹ میں ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسپین کے سرکاری مانیٹرنگ سسٹم کی جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتوار سے بدھ تک اموات کی تعداد معمول سے نمایاں طور پر زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ جسے حالیہ شدید گرمی کی لہر سے جوڑا جا رہا ہے۔
یہ نظام روزانہ اموات کے اعداد و شمار کو ماضی کے ریکارڈ اور متوقع شرح اموات سے موازنہ کرکے ممکنہ وجوہات کا تعین کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے اسی چار روزہ عرصے میں اضافی اموات کی تعداد 98 تھی، جبکہ رواں سال یہ تعداد بڑھ کر 212 تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسپین میں جون کے مہینے کے دوران 1950 کے بعد سب سے زیادہ اوسط یومیہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ پیر کو اوسط درجہ حرارت 28.08 اور منگل کو 28.17 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو جون کے لیے غیرمعمولی سطح سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق رات کے وقت بھی درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ رہا۔ پیر کو کم سے کم اوسط درجہ حرارت 20.14 اور منگل کو 19.81 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ ایسی گرم راتوں کو “ٹروپیکل نائٹس” کہا جاتا ہے، جو نیند اور انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
شدید گرمی کے باعث شمالی اسپین کے علاقوں کینٹابریا اور باسک کنٹری میں بھی ہائی الرٹ جاری کیا گیا، حالانکہ یہ علاقے عموماً معتدل موسم کے لیے معروف ہیں۔ بعض مقامات پر درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا۔
یہ بھی پڑھیں: میکسیکو میں ورلڈ کپ میچ جینتے کا جشن حادثے میں بدل گیا، 17 افراد زخمی
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یورپ میں گرمی کی لہروں کی شدت اور دورانیے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں صحت عامہ کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ سال اسپین میں گرمی سے متعلق اموات کی تعداد 3,832 ریکارڈ کی گئی تھی، جو اس سے ایک سال قبل کے مقابلے میں تقریباً 88 فیصد زیادہ تھی۔
