آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش کی وجہ سے عالمی تیل منڈی میں ہلچل مچ گئی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی توانائی منڈی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یمن کے حوثی Yemen’s Houthis آبنائے باب المندب کو مؤثر طور پر بند کرنے میں کامیاب ہو گئے تو دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں سے ایک متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا کے درمیان خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے، 2023 سے حوثیوں کے بحری حملوں کے باعث کئی جہاز پہلے ہی افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کر رہے ہیں، جس سے سفری اخراجات اور ترسیل کا وقت بڑھ چکا ہے۔
توانائی امور کے ماہر رچرڈ برونز کے مطابق اگر باب المندب مؤثر طور پر بند ہو جاتی ہے تو یہ خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا بڑا سبب بن سکتی ہے۔
BREAKING: Yemen’s Houthis have announced a Naval Blockade on Saudi Arabia from the Red Sea
This move essentially Cuts OFF Saudi oil exports through the Bab al-Mandeb Strait pic.twitter.com/oOSzJIYQAE
— The Hormuz Wire (@HormuzJournal) July 21, 2026
حوثیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً ایک فیصد اضافے کے ساتھ 91 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بحران شدت اختیار کرنے کی صورت میں قیمتیں 115 سے 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔
اس وقت امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت 84 ڈالر سے زائد ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کے مربن آئل کی فی بیرل قیمت 85 ڈالر سے زائد ہے۔
کپلر کے کموڈیٹی ریسرچ ڈائریکٹر میٹ اسمتھ کے مطابق سب سے زیادہ متاثر سعودی عرب کی بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے ایشیا جانے والی تیل کی ترسیل ہوگی۔ اگر بحری راستہ بند ہوا تو آئل ٹینکرز کو جنوبی افریقہ کے کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے سفر کرنا پڑے گا، جس سے ایشیائی ریفائنریوں کو تیل کی ترسیل میں تقریباً ایک ماہ کی تاخیر ہو سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب اپریل سے روزانہ اوسطاً 45 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل اور ایندھن ینبع سے برآمد کر رہا ہے، جس کا تقریباً 70 فیصد ایشیائی ممالک کو بھیجا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بحران صرف تیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بحری کرایوں، انشورنس اخراجات اور یورپ میں ڈیزل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر صورتحال طویل ہوئی تو عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے ساتھ عالمی اقتصادی سست روی یا کساد بازاری کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
اگر قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمت میں بھی مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی۔
