امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں لبنان کے صدر جوزف عون سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے لبنان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور واشنگٹن لبنان کی مدد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کئی دہائیوں سے مشکلات اور حملوں کا سامنا کرتا رہا ہے، تاہم امریکہ لبنانی عوام کے ساتھ احترام اور تعاون کا رویہ برقرار رکھے گا۔
سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، اگر کوئی صورتحال پیدا ہوئی تو ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی برقرار ہے اور کوئی بھی اس ناکہ بندی کو عبور نہیں کر سکتا۔
Take notes on how to talk to Trump!
You are a great president, the Lebanese lider said during his meeting with Trump.
“He knows how to get to me. He can have anything!” Trump replied.
Also he said the US was not finished with Iran and warned that any attempt to restart its… pic.twitter.com/vPgCmnyDhA
— NEXTA (@nexta_tv) July 21, 2026
ایران سے متعلق گفتگو میں امریکی صدر نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران ملاقات کے لیے بے چین ہے اور مذاکرات چاہتا ہے لیکن اس وقت امریکہ کی اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک نتیجہ خیز بات چیت ممکن نہ ہو، واشنگٹن تہران سے ملاقات نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اور اسے اس حد تک کمزور کر رہا ہے جس کا ماضی میں تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ایرانی تنصیبات پر کارروائیاں جاری رہیں گی کیونکہ کام ابھی مکمل نہیں ہوا، اس لیے ہم ایران سے ابھی نہیں نکلیں گے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے اردن پر حملہ بھی کیا گیا جبکہ یہ بھی کہا کہ اگر لبنانی صدر جوزف عون چاہیں تو وہ حزب اللہ سے بھی بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے امریکہ کی عسکری طاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس دنیا کے بہترین ہتھیار اور دفاعی نظام موجود ہیں۔
مذاکرات مثبت رہے لیکن امریکا نے معاہدہ توڑا، ایرانی صدر
وینزویلا کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ اب امریکہ کے وینزویلا کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور امریکہ وہاں سے بڑی مقدار میں تیل حاصل کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ بہت جلد ایران کے پکیکس ماؤنٹین کے علاقے کو نشانہ بنائے گا تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
