امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری معاہدے کی منظوری دے دی۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول ایٹمی توانائی کے شعبے میں طویل المدتی شراکت داری قائم کرنا ہے، تاکہ سعودی عرب اپنے توانائی کے ذرائع کو مزید متنوع بنا سکے اور مستقبل کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدید ایٹمی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکے۔
امریکا ایران معاہدہ، سعودی عرب کا خیرمقدم، پاکستان اور قطر کی ثالثی کو سراہا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں سول جوہری منصوبوں کی تعمیر، تکنیکی معاونت، تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی میں کردار ادا کریں گی۔ اس تعاون کا مقصد بجلی کی پیداوار میں اضافہ، توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا اور اقتصادی ترقی کے منصوبوں کو تقویت دینا بھی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ معاہدہ امریکی قانون کے تحت کانگریس کے سامنے منظوری اور جائزے کے لیے پیش کیا جائے گا۔ کانگریس کو معاہدے کا تفصیلی جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہوگا، جس کے بعد اس کی حتمی منظوری یا اس پر اعتراضات کا فیصلہ کیا جائے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کئی برسوں سے پرامن مقاصد کے لیے سول جوہری پروگرام کے قیام کا خواہاں ہے اور وہ اپنی ویژن 2030 حکمت عملی کے تحت توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد خام تیل پر انحصار کم کرنا اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان کی سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت، مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ
دوسری جانب امریکا اس تعاون کو مشرق وسطیٰ میں اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ قرار دیتا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں بین الاقوامی ایٹمی ضوابط، حفاظتی اقدامات اور عدم پھیلاؤ کے اصولوں کو مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ سول جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد تک محدود رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی کانگریس اس معاہدے کی منظوری دے دیتی ہے تو یہ نہ صرف امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہوگا بلکہ خطے میں توانائی، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
