تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات توقعات سے کہیں زیادہ مثبت رہے تاہم امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر کے ساتھ رابطہ اور تعاون دن بدن بڑھ رہا ہے۔ اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں توقعات سے کہیں زیادہ مثبت رہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ہم قدم بہ قدم آگے بڑھے۔ بنیادی مؤقف تیل کی برآمدات اور دیگر اہم امور کے لیے آبنائے ہرمز کو کھولنا تھا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ تمام امور میں پیشرفت کے باوجود امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ جبکہ تمام فیصلے سپریم لیڈر کے احکامات کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور خطے کے استحکام کے لیے اپنی پالیسی پر عمل جاری رکھے گا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی کہ 2 ہفتوں سے جاری ایران جنگ میں تقریباً 100 فوجی زخمی ہوئے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ 7 جولائی سے اب تک تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف نوعیت کے زخم آئے۔ زخمی ہونے والوں میں سے 96 فیصد فوجی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔
یہ انکشاف ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکا نے جمعہ کو ایرانی حملے سے ہلاک 2 فوجیوں کی شناخت ظاہر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ثالث ممالک نے اہم پیغامات پہنچائے ، امریکا سے مذاکرات قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں گے ، اسماعیل بقائی
اس سے پہلے پینٹاگون نے صرف اتنا بتایا تھا کہ 28 فروری سے اب تک 14 فوجی ہلاک اور 427 زخمی ہوئے ہیں۔
