لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور میں شروع کی گئی نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں بےضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کے اجلاس میں منصوبے سے متعلق بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ لاہور میں اس اسکیم کے لیے ایل ڈی اے نے 8 ہزار 500 کنال اراضی مختص کی تھی، جہاں 4 ہزار سے زائد اپارٹمنٹس تعمیر کیے جانا تھے۔ منصوبے کے تحت ایک اپارٹمنٹ کی لاگت 27 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 50 ہزار روپے سے کم ماہانہ آمدن رکھنے والے 800 سے زائد امیدواروں نے 10 فیصد ڈاؤن پیمنٹ بھی جمع کرائی، تاہم منصوبہ مکمل نہ ہونے کے باعث انہیں نہ گھر مل سکے اور نہ ہی ان کی جمع شدہ رقوم واپس کی جا سکیں۔ مجموعی طور پر 896 درخواست گزار اس صورتحال سے متاثر ہوئے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے منصوبے پر سوالات اٹھاتے ہوئے محکمہ ہاؤسنگ اور ایل ڈی اے حکام کو ہدایت کی ہے کہ متاثرین کو رقوم کی واپسی یا اپارٹمنٹس کی تکمیل سے متعلق جامع رپورٹ 30 روز میں پیش کی جائے، تاکہ متاثرہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: خلع کی ڈگری دائر کرنے سے بیوی کا حق مہر ختم نہیں ہوتا ، لاہور ہائیکورٹ
سابق وزیراعظم عمران خان نے 2018 میں اپنی حکومت کے آغاز میں ہی غریب افراد کے لیے 50 لاکھ مکانات بنانے کا اعلان کرتے ہوئے اس منصوبے کو نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا نام دیا تھا، مذکورہ اسکیم کے لیے ابتدائی سال میں 5 ارب روپے کا بجٹ بھی مختص کیا گیا تھا جبکہ وفاقی کابینہ نے پہلے ہی سال میں اس اسکیم کے تحت ایک لاکھ 35 ہزار مکانات تعمیر کرنے کے فیصلے کی منظوری بھی دیدی تھی۔
