نئی دہلی: بھارت میں پیپر لیکس کے معاملے پر کانگریس کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کے دوران اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی اور کانگریس کی جنرل سیکرٹری پریانکا گاندھی سمیت متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کانگریس کے کارکنوں نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کیا، جس پر پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔
رپورٹس کے مطابق راہول گاندھی کو وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب سے حراست میں لیا گیا۔ مزاحمت کے باوجود پولیس اہلکار راہول گاندھی کو زبردستی ایک بس میں منتقل کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے۔
کانگریس کی جنرل سیکرٹری پریانکا گاندھی کو بھی احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد دیگر کارکنوں اور مظاہرین کو بھی پولیس نے گرفتار کر لیا۔
مظاہرین کی جانب سے وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ مئی میں میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونا تعلیمی نظام میں گہری کرپشن کا ثبوت ہے۔
گزشتہ روز بھی بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں جاری “کاکروچ موومنٹ” کے حامیوں نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی تھی جسے پولیس نے شیلنگ اور گرفتاریوں کے ذریعے ناکام بنایا۔
نئی دہلی میں ہزاروں مظاہرین احتجاج کرتے ہوئے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب روانہ ہوئے تھے۔ تاہم پولیس نے جگہ جگہ سیکیورٹی رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں دھماکے سے سرنگ مہندم؛ 9 افراد ہلاک، 15 پھنس گئے
پولیس نے مظاہرین کی جانب سے رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور لاٹھی چارج کیا۔ اس کے باوجود متعدد مظاہرین چھوٹے گروپوں کی صورت میں پارلیمنٹ کی جانب بڑھتے رہے۔
