امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا میں موجودگی کے دوران اسرائیلی وزیراعظم کو کسی صورت گرفتار ہونے نہیں دیں گے۔
اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو ایران سے جنگ لڑ رہا ہے جہاں پر 52 ہزار مظاہرین کو قتل کیا گیا، اصل گرفتاری ایران کے رہنماؤں کی ہونی چاہیے جو خونریزی اور بربادی کے ذمہ دار ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوجی کے قتل پر ایران کو کئی گنا قیمت چکانا ہو گی، اس حوالے سے وزیر دفاع اور عسکری قیادت کو ہدایات جاری کر دی ہیں امریکی فوج ہر ممکن ردعمل کے لیے تیار رہے ، امریکی فوجیوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔
ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے یا نہ کرے ، مجھے کوئی پرواہ نہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ
خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ میئر نیو یارک ظہران ممدانی نے کہا تھا کہ نیتن یاہو کی نیو یارک آمد پر گرفتاری کے قانونی امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ظہران ممدانی نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ جنگی مجرم قرار دیے جانے کے بعد نیتن یاہو کی جگہ دی ہیگ ہے، اسرائیلی وزیراعظم کو عالمی فوجداری عدالت نے جنگی جرائم کے الزامات میں نامزد کیا۔
ممدانی کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے نیو یارک آنے والے ہیں، واضح نہیں کہ مجھے نیتن یاہو جیسے غیر ملکی رہنما کی گرفتاری کے لیے نیو یارک پولیس کو احکامات دینے کا اختیار ہے یا نہیں۔
