فرانس کے محلِ ورسائی میں عشائیے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کو میز پر مفاہمتی یادداشت کے دستاویز پیش کیے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ اور مستقل امن کی جانب پیش رفت ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق معاہدے میں جنگی کارروائیوں کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھولنے، ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات اور 60 روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
تقریب کے دوران صدر میکرون نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امن کے قیام کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
The moment President Trump signs the Iran deal at the Palace of Versailles.
The agreement was finalized during a dinner hosted by French President Emmanuel Macron inside the historic palace.
The signing marked a major diplomatic milestone after months of negotiations aimed at… pic.twitter.com/slt91WwA2O
— Fox News (@FoxNews) June 18, 2026
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت ابتدائی فریم ورک ہے اور آئندہ 60 دنوں میں تفصیلی مذاکرات کے ذریعے ایک حتمی اور ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کی توثیق یافتہ معاہدے کی کوشش کی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے متن پر باضابطہ دستخط ہو چکے ہیں اور معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور میزائل پروگرام پر کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایران کے میزائل صرف فائر کرنے کے لیے ہیں، مذاکرات کے لیے نہیں‘‘۔
ترجمان نے واضح کیا کہ ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا، تاہم افزودہ یورینیم کو کم افزودہ کرنے کا آپشن موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فارسی اور انگریزی زبان میں موجود دستاویزات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہیں اور دوسرے فریق نے بھی اس یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو گئے، وزیراعظم کی بطور ثالث توثیق
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت آئندہ 60 روز کے دوران دوسرا فریق خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایران پر نئی پابندیاں عائد کرے گا۔
اسماعیل بقائی نے زور دیا کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور ایران کو فوری طور پر تیل کی فروخت شروع کرنے کے قابل ہونا چاہیے جبکہ یہ صورتِ حال کم از کم 60 دن تک برقرار رہنی چاہیے۔
