پوپ لیو نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں پوپ لیو نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ دونوں ممالک جمعہ کو باضابطہ امن معاہدے پر دستخط کریں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ کشیدگی اور تنازعات کے خاتمے کا باعث بنے گا۔
پوپ لیو نے زور دیا کہ جنگ کے بجائے مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی احترام ہی مسائل کے پائیدار حل کا راستہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور خطے کے استحکام کے لیے تمام فریقین کو تحمل اور مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران انہوں نے مسلسل جنگ بندی، امن مذاکرات اور شہریوں کے تحفظ کی اپیل کی تھی۔ پوپ لیو کے مطابق دنیا کو تصادم نہیں بلکہ مفاہمت، انصاف اور امن کی ضرورت ہے۔
پوپ نے امید ظاہر کی کہ جنگ واقعی ختم ہوگی، خطے میں استحکام آئے گا اور متعلقہ ممالک اپنے عوام کی فلاح، ترقی اور خوشحالی پر توجہ مرکوز کر سکیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ امن کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے۔
امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے میں جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور سفارتی رابطوں کی بحالی کو بنیادی نکات قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں سے گریز کریں گے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنائیں گے۔ معاہدے میں خطے میں امن و استحکام کے فروغ، حساس تنصیبات کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ایران کے ساتھ تعلقات ٹھیک ہو گئے،ڈیل جائزے کےلیےکانگریس کوبھیجیں گے،ڈونلڈ ٹرمپ
واضح رہے کہ پوپ لیو کیتھولک کلیسیا کے سربراہ اور ویٹی کن سٹی ریاست کے خود مختار حکمران ہیں، انھیں 8 مئی 2025ء کو پوپ فرانسس کے انتقال کے بعد ہونے والے کانکلیو (پاپائی اجتماع) میں پوپ منتخب کیا گیا۔
امریکا اور پیرو کی دوہری شہریت رکھنے والے لیو امریکا اور پیرو دونوں سے تعلق رکھنے والے پہلے پوپ ہیں، وہ سینٹ آگسٹین کی طریقت سے تعلق رکھنے والے پہلے پوپ اور ان طریقتوں میں سے ساتویں ہیں جو سینٹ آگسٹین کے ضابطہ کی پیروی کرتے ہیں۔
