وانا: جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے ایک بازار میں مبینہ پریشر بم دھماکے میں مذہبی شخصیت مفتی جانا میر مستی خیل جاں بحق ہو گئے۔
وانا سرکل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) اصغر علی شاہ نے انگریزی اخبار ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھماکا رستم بازار میں واقع ایک سپر مارکیٹ کے گراؤنڈ فلور پر ہوا، جس میں علاقے کی مذہبی شخصیت مفتی جانا میر شدید زخمی ہوئے۔ انہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
ڈی ایس پی کے مطابق پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کیے۔ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکا بظاہر مفتی جانا میر کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر کے حملے میں ملوث عناصر اور اس کے محرکات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب سینیئر صحافی طاہر خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مفتی جانا میر مقامی سطح پر ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ وہ ایک سرکاری اسکول میں بطور استاد خدمات انجام دے رہے تھے اور قبائلی و زمینی تنازعات کے حل کے لیے مقامی جرگوں میں بھی فعال کردار ادا کرتے تھے۔
#Waziristan #Khyber #Pakhtunkhwa A blast in South Waziristan Monday killed a religious figure, Mufti Jan Ameer, locals said. Sources said that Mufti Jan was previously regarded as one of the key commanders of the Mullah Nazir group. Mullah Nazir, who had led a ‘Lashkar’ against… pic.twitter.com/fncU4v0Zhz
— Tahir Khan (@taahir_khan) August 3, 2026
گزشتہ روز بھی خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے تھانہ کبل کے مرکزی گیٹ پر خودکش دھماکا ہوا۔ جس میں پولیس اہلکاروں سمیت 17 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: سوات خودکش حملہ: ملالہ یوسفزئی کا اظہار افسوس
پولیس کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں تھانے کے گیٹ کو جزوی نقصان بھی پہنچا۔ڈی پی او سوات محمد عمر خان کے مطابق خودکش حملہ آور کا سر جائے وقوعہ سے مل گیا ہے، جبکہ ابتدائی تحقیقات میں حملہ آور کے افغان شہری ہونے کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
