واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کمپنیوں سے قیمتوں میں فوری کمی کا مطالبہ کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تیل کی قیمتوں میں فوری کمی کریں۔
انہوں نے کہا کہ تیل کمپنیاں قیمتیں فوری طور پر کم کریں تاکہ عوام کو ایندھن کی بڑھتی لاگت سے نجات مل سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی انتظامیہ برسر اقتدار نہ ہوتی تو امریکا اور ملک کی تیل کی صنعت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہوتی۔ ان کی پالیسیوں نے امریکی توانائی کے شعبے کو مستحکم رکھنے اور تیل کی صنعت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ان کی انتظامیہ توانائی کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے اور صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی ہو گئی۔
عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4.2 فیصد کمی کے بعد 84 ڈالر فی بیرل تک گر گئی جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 5 فیصد کمی کے ساتھ 80 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی عدالت نے فلسطینی قیدیوں کی جیل کے گرد مگرمچھ چھوڑنے کا منصوبہ روک دیا
کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھنے میں آئی اور امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت 78.97 ڈالر کی سطح پر آ گئی، برطانوی تیل مزید سستا ہو کر 82.92 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔
