نئے صوبوں کے قیام پر سیاسی اتفاق رائے کی کوششیں تیز ہو گئیں۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سینیٹر طلحہ محمود نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبہ ہزارہ کے قیام کے مطالبے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کی تحریک 2010 میں شروع ہوئی اور یہ کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ تمام مکاتب فکر اور عوام کی متفقہ آواز ہے۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کے قیام پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی 2014، 2018 اور 2020 میں صوبہ ہزارہ کے حق میں آئینی قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے بل پیش کیے جا چکے ہیں، جو قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹیوں کو بھیجے گئے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 2010 کی تحریک میں ہزارہ کے سات نوجوان جان سے گئے، اور اس وقت تمام سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایک ہی مطالبہ تھا کہ صوبہ ہزارہ بنایا جائے، ان کا کہنا تھا کہ انتظامی طور پر نئے صوبے اور یونٹس وقت کی ضرورت ہیں۔
🚨 I fully support Mohsin Naqvi. I believe that what respected 🇵🇰 Mr. Mohsin Naqvi has said is based on merit.
– Senator Talha & Sardar Yousaf. pic.twitter.com/znoNwqVKVc
— Asad Nasir (@asadnasir2000) August 3, 2026
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ملکی مسائل کا حل نئے صوبوں کے قیام میں ہے اور نئے صوبے بننے سے معیشت میں بہتری آئے گی، انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب سمیت دیگر صوبائی تحریکوں کے رہنما بھی نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
دوسری جانب لاہور میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے چیئرمین محمود مولوی، سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور سابق میئر کراچی وسیم اختر نے بھی نئے صوبوں کے معاملے پر پریس کانفرنس کی۔
محمود مولوی نے کہا کہ جہاں نئے صوبوں پر اعتراضات ہیں وہاں انتظامی یونٹس قائم کیے جا سکتے ہیں، جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں میں نئے صوبوں سے متعلق قراردادیں موجود ہیں۔ انہوں نے بلوچستان اور سندھ میں تقسیم کے حوالے سے ریفرنڈم کی تجویز بھی دی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان قومی ڈائیلاگ ضروری ہے جبکہ یہ کہنا کہ نئے صوبے نہیں بن سکتے، درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر سنجیدہ مذاکرات ہونے چاہئیں اور نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی اس کے لیے اپنا پلیٹ فارم فراہم کرنے کو تیار ہے۔
سابق میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ماضی میں مختلف طریقے آزمائے گئے لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو تقسیم نہیں کیا جائے گا تاہم انتظامی یونٹس بننے سے عوامی مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
سابق گورنر پنجاب عمران اسماعیل نے کہا کہ ملک میں اصلاحات کے لیے بانی پی ٹی آئی کی شمولیت ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ سے ملاقات کے لیے درخواست دائر کرے گی تاکہ انہیں مذاکرات کے عمل میں شامل کیا جا سکے۔
محمد علی درانی نے کہا کہ بہاولپور، جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبوں سے متعلق قراردادیں موجود ہیں، تاہم موجودہ سیاسی جماعتیں ان قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کر رہیں۔ انہوں نے موجودہ سیاسی نظام کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
