پنجاب کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے نئے مالی سال کے صوبائی بجٹ کی دستاویزات کے ذریعے تعلیم، صحت اور کھیلوں کے شعبوں کے لیے تاریخی فنڈز اور انقلابی منصوبوں کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کا مجموعی بجٹ 5850 ارب روپے سے زائد جبکہ ترقیاتی بجٹ 752 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
لیپ ٹاپ پروگرام کیلئے 66 ارب 40 کروڑ روپے مختص
اس بجٹ میں نوجوانوں اور طلبا کے لیے بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں جس کے تحت وزیر اعلیٰ پنجاب لیپ ٹاپ پروگرام کے لیے 66 ارب 40 کروڑ روپے اور چیف منسٹر ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے لیے 33 ارب 25 کروڑ روپے کی خطیر رقم فراہم کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی مریم نواز اکیڈمک لیڈرشپ سینٹر لاہور کے لیے 4 ارب روپے، طلبہ کو سائیکلیں دینے کے لیے 1 ارب روپے اور طالبات کو ٹرانسپورٹ کی سہولت کے لیے 1 کروڑ روپے ملیں گے۔
عوامی خدمت، ریلیف اور ترقی کے عزم کے ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کے 35ویں اجلاس کی صدارت کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ این ایف سی شیئر میں کمی کے باوجود پنجاب کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے… pic.twitter.com/wzZxSbeNEt
— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) June 16, 2026
سرکاری اسکولوں میں اسٹیم لیبز کے لیے 7 ارب 40 کروڑ روپے
اسکولوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سرکاری اسکولوں میں اسٹیم لیبز کے لیے 7 ارب 40 کروڑ روپے، چیف منسٹر پنجاب اسکولز میل پروگرام کے لیے 7 ارب روپے اور پینے کے صاف پانی کے لیے فلٹریشن پلانٹس لگانے کی منظوری دی گئی ہے۔
لاہور میں اسکول بیسڈ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کا پہلا مرحلہ شروع کرنے اور مری بوائے اسکاؤٹس سمر ٹریننگ سینٹر کے لیے 17 کروڑ 55 لاکھ روپے جاری کرنے کی تجاویز بھی دستاویز کا حصہ ہیں۔
اعلیٰ تعلیم اور جامعات کے بنیادی ڈھانچے کے لیے بھی بجٹ میں بڑے اقدامات شامل ہیں جس کے تحت پنجاب کے کالجوں میں آئی ٹی لیبز کے دوسرے مرحلے کے لیے 4 ارب روپے اور جی سی یونیورسٹی لاہور کی بحالی و تزئین و آرائش کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سیالکوٹ ویمن یونیورسٹی کی عمارت کی تعمیر کے لیے 1 ارب 39 کروڑ روپے سے زائد، یونیورسٹی آف چکوال سٹی کی کیمپس عمارت کے لیے 154 کروڑ 88 لاکھ روپے، یونیورسٹی آف گجرانوالہ کے قیام کے لیے 50 کروڑ روپے اور یونیورسٹی آف حافظ آباد کے لیے 26 کروڑ 72 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
تمام ڈویژنز میں آٹزم اسکول کے ذیلی کیمپس
اسپیشل ایجوکیشن کے شعبے میں مریم نواز آٹزم اسکول کے ذیلی کیمپس پنجاب کے تمام ڈویژنز میں بنانے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ خصوصی بچوں کے لیے بھی چیف منسٹر میل پروگرام شروع کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ مری میں خصوصی بچوں کے مڈل اسکول کی عمارت کے لیے 28 کروڑ 50 لاکھ روپے، لاہور میں نابینا بچوں کے اساتذہ کے ٹریننگ کالج پر 44 کروڑ روپے جبکہ کوٹ ادو، وزیرآباد اور راولپنڈی میں اسپیشل ایجوکیشن سینٹرز اور کالج کی عمارتوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
شرح خواندگی بڑھانے کے لیے 3 ارب 58 کروڑ روپے
بجٹ دستاویز کے مطابق پنجاب میں پڑھائی کا معیار اور شرح خواندگی بڑھانے کے لیے 3 ارب 58 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ صوبے کے 15 اضلاع میں نئے نان فارمل اسکولوں کے لیے 1 ارب 1 کروڑ روپے، جنوبی پنجاب کے نان فارمل منصوبے کے لیے 2 ارب 40 کروڑ روپے اور سینٹرل پنجاب نان فارمل پروجیکٹ کے لیے 2 ارب 36 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ ڈیڑھ لاکھ ناخواندہ افراد کے لیے چیف منسٹرز اسپیشل ایڈلٹ لٹریسی پروگرام کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
کھیل اور تفریح کیلئے بھی بھاری فنڈز تجویز
کھیل اور نوجوانوں کی تفریح کے لیے لاہور میں انٹرنیشنل معیار کی مریم نواز اسپورٹس سٹی بنانے کے فنڈز رکھے گئے ہیں اور صوبہ بھر میں کھیلوں کے فروغ کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کھیلتا پنجاب کارڈ کا اجرا کیا جائے گا۔
نشتر پارک اسپورٹس کمپلیکس لاہور میں انٹرنیشنل اسکواش اور انڈور اسپورٹس کی سہولت قائم کی جائے گی جبکہ صوبے کے پی ایچ اے پارکس میں اوپن ائیر جیمز اور بچوں کے پلے ایریاز بنانے کا امکان ہے۔ نوجوانوں کے لیے چیف منسٹرز یوتھ انگیجمنٹ پروگرام شروع کیا جائے گا اور مری کے علاقے بھوربن اور کوٹ ادو میں اسپورٹس کمپلیکس کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
صحت: نئے میڈیکل انسٹی ٹیوٹس کی قیام کی تجویز
صحت کے شعبے میں مریم نواز حکومت نے بڑے میڈیکل انسٹی ٹیوٹس کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت لاہور میں نواز شریف کینسر انسٹی ٹیوٹ کے لیے 26 ارب 22 کروڑ 10 لاکھ روپے کی بھاری رقم مختص کی گئی ہے۔
گجرانوالہ میں مریم نواز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے لیے 6 ارب روپے، مریم نواز ہیلتھ کلینکس کی بحالی اور قیام کے لیے 15 ارب 45 کروڑ روپے جبکہ لاہور کے اربن مریم نواز ہیلتھ کلینکس کے لیے 5 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ میانوالی میں مریم نواز شریف میڈیکل کالج کے لیے 1 ارب روپے، راولپنڈی میں چلڈرن اسپتال کے قیام کے لیے 4 ارب 9 کروڑ روپے، بہاولپور میں بچوں کے جدید اسپتال کے لیے 1 ارب روپے سے زائد اور ڈیرہ غازی خان میں کلثوم نواز کینسر اسپتال کے لیے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
پنجاب میں یونیورسل ہیلتھ کوریج پروگرام کے لیے 11 ارب 11 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سیکنڈری اسپتالوں میں لیبارٹری ٹیسٹ کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے 53 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
راولپنڈی اور ملتان میں نرسنگ ایجوکیشن کے لیے سینٹر آف ایکسی لینس قائم کیے جائیں گے اور مینوفیکچرنگ و صحت کے دیگر امور سمیت ڈائیلاسز اور ٹرانسپلانٹ پروگرامز کے لیے وزیر اعلیٰ کے خصوصی فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں۔
