پشاور ہائیکورٹ نے واپڈا ملازمین کو مفت بجلی یونٹس کی سہولت ختم کرنے کے خلاف دائر درخواستیں خارج کرتے ہوئے حکومت کے فیصلے کو قانونی قرار دے دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نگران وفاقی حکومت کی جانب سے مفت بجلی کی سہولت ختم کرکے اسے مانیٹری الاؤنس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ قانونی حدود کے اندر کیا گیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ مفت بجلی یونٹس کی فراہمی کوئی مستقل یا اٹل قانونی حق نہیں بلکہ ایک انتظامی رعایت تھی، جسے بدلتے ہوئے معاشی حالات اور قومی مفاد کے پیش نظر تبدیل یا ختم کیا جا سکتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ نگران حکومت کا یہ اقدام پالیسی کے تسلسل اور انتظامی بہتری کے لیے اٹھایا گیا جبکہ منتخب حکومت کی جانب سے اس پالیسی کو برقرار رکھنے سے اس کی قانونی حیثیت مزید مضبوط ہوگئی۔
پشاور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ یہ تبدیلی آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کی خلاف ورزی نہیں اور نہ ہی اسے امتیازی سلوک قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ یہ عام اطلاق کی ایک معاشی اصلاح ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ وقت گزرنے کے ساتھ انتظامی انتظامات مستقل قانونی حقوق کی شکل اختیار نہیں کر سکتے تاہم متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس پالیسی پر عمل درآمد شفاف، منصفانہ اور یکساں انداز میں یقینی بنایا جائے۔
واضح رہے کہ اپریل 2026 میں ملکی تاریخ میں پہلی بار حکومت نے پاور سیکٹر کے ملازمین کیلئے بجلی کے مفت یونٹس کی سہولت ختم کر دی تھی، دوسری طرف لو ڈشیڈنگ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ کردیا گیا تھا۔
سندھ حکومت کا بڑا اقدام، ایک لاکھ نوجوانوں کو یوتھ کارڈ جاری کرنے کا اعلان
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے پاور ڈویڑن اویس لغاری نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاور سیکٹر کے اہلکاروں کے فری یونٹس ختم کئے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ معزز عدالت نے پاور ڈویژن کی عرضی کو قبول فرمایا، فری یونٹس کا خاتمہ عوام کا سب سے پرانا اور دیرینہ مطالبہ تھا، اللہ تعالیٰ نے اس مطالبے کو پورا کرنے کا اعزاز انہیں عطا فرمایا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ہر وہ اقدام ضرور کیا جائے گا جو ملک اور قوم کی اجتماعی بہتری کیلئے ہو، حکومت عوامی مفاد میں اصلاحات کے عمل کو جاری رکھے گی۔
