علی حسنین
بجٹ تقاریر پارلیمان اور ٹیلی وژن کی خبروں کے لیے لکھی جاتی ہیں۔ کچن کے بجٹ گھروں میں بنتے ہیں۔ اب جبکہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی کے سامنے ہے، تو اہم سوال یہ نہیں کہ وزیرِ خزانہ نے کیا کہا، بلکہ یہ ہے کہ ایک عام پاکستانی فیملی کے روزمرہ حساب کتاب میں کیا تبدیلی آئے گی؟
شروع وہاں سے کرتے ہیں جہاں ہر پاکستانی گھرانے کا وفاقی حکومت سے سب سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے، یعنی پٹرول پمپ۔
پمپ پر حکومت مزید رقم اینٹھے گی
بجٹ کے مطابق اگلے سال پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی سے 1,676 ارب روپے وصول کرنے کی توقع ہے۔ یہ پٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر ٹیکس ہے جو وفاقی حکومت مکمل طور پر اپنے پاس رکھتی ہے۔ یہ اس سال کی وصولیوں سے تقریباً بارہ فیصد زیادہ ہے۔ لیکن ہم سالانہ صرف تقریباً بیس ارب لیٹر پٹرول اور ڈیزل استعمال کرتے ہیں، اور کھپت کی شرح آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔
لیوی کے ہدف کو لیٹرز پر تقسیم کریں تو حساب واضح ہو جاتا ہے۔ لیوی کو آج کے تقریباً 78 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر کہیں 84 سے 87 روپے فی لیٹر کے درمیان لے جانا ہوگا۔ یعنی ہر لیٹر پر مزید 6 سے 9 روپے، وہ بھی عالمی تیل کی قیمتوں میں کسی تبدیلی سے پہلے۔ جبکہ ایران امریکا جنگ کیوجہ سے اس سال پٹرول پہلے ہی 320 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکا ہے۔
لیوی کب بڑھے گی؟
اس بات کا اعلان کسی وزیر نے نہیں کیا، اور نہ ہی کرنے کی ضرورت ہے۔ لیوی کی شرح حکومتی نوٹیفکیشن کے ذریعے مقرر کی جاتی ہے، وہ قانونی حد جو کبھی اس پر لاگو تھی، گزشتہ سال ختم کر دی گئی تھی۔ اس لیے اضافہ تقریر میں نہیں بلکہ کسی سرکلر میں آئے گا، غالباً یکم جولائی کے بعد۔
بجٹ کے محصولات کا حساب پہلے ہی اس اضافے کو فرض کر چکا ہے۔ ایندھن پر عائد ٹیکس سب سے زیادہ دور رس ہوتے ہیں یعنی تقریباً ہر چیز کی قیمت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہ بسوں کے کرایوں، مال برداری، آٹے اور سبزیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ جب نوٹیفکیشن آئے گا، تو درحقیقت بجٹ آپ کے کچن تک پہنچ چکا ہوگا۔
تنخواہ میں اضافہ بقابلہ مہنگائی میں اضافہ
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافہ کرکے اسے تقریباً 40,700 روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ اب ان اعداد کا موازنہ خود بجٹ کے مہنگائی کے اندازے سے کریں، جو 8 فیصد سے کچھ زیادہ ہے، تو تصویر واضح مگر تکلیف دہ بنتی ہے۔ صاف بات کریں تو ایک سرکاری ملازم اپنی تنخواہ سے آج کے مقابلے میں اگلے سال قدرے کم چیزیں خرید سکے گا۔
جہاں تک مقرر کی گئی کم سے کم اجرت کی بات ہے تو اس کا مہنگائی سے موازنہ اور مقابلہ تبھی ممکن ہوگا جب اس پر حقیقت میں عمل درآمد ہو، جو غیر رسمی معیشت کے بڑے حصے میں نہیں ہوتا۔ پاکستانیوں کی اکثریت، جو نجی یا غیر رسمی شعبے میں کام کرتی ہے، ان کی تنخواہ میں اضافے کا کوئی اعلان نہیں ہوا۔ ان کے لیے مہنگائی سے تحفظ صرف اتنا ہے جتنا لیبر مارکیٹ انہیں فراہم کرے۔
یہ غفلت نہیں بلکہ پالیسی کا حصہ ہے۔ ہم اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہیں، جو حکومت سے تقاضا کرتا ہے کہ سود کی ادائیگیوں سے پہلے وہ اپنی آمدنی سے کم خرچ کرے۔ یعنی قومی آمدنی کے 2 فیصد کے برابر پرائمری سرپلس حاصل کرے۔ اور سرکاری تنخواہوں جیسے اخراجات پر کنٹرول اسی ہدف کے حصول کا ایک حصہ ہے۔
بجٹ کے 2 فاتح اور بہت سے متاثرین
اگر تقاریر کو ایک طرف رکھ کر، اور مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بجٹ کا گزشتہ سال کے بجٹ سے موازنہ کیا جائے تو صرف دو اہم مدات ایسی ہیں جن میں حقیقی معنوں میں اضافہ ہوا ہے: بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)، اور دفاعی بجٹ۔
بی آئی ایس پی، جو ملک کے غریب ترین گھرانوں تک نقد امداد پہنچاتا ہے، تقریباً 17 فیصد بڑھ کر تقریباً 850 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یعنی حقیقی معنوں میں تقریباً 8 فیصد اضافہ، اور بجٹ کی سب سے زیادہ فلاحی شق۔ دفاعی بجٹ بھی تقریباً اسی رفتار سے بڑھ کر 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
باقی تقریباً سب کچھ سکڑ گیا ہے۔ موازنہ کے قابل وفاقی بجٹ روپے کی مالیت میں صرف تقریباً 5 فیصد بڑھا ہے۔ یعنی حقیقی معنوں میں تقریباً 3 فیصد کمی۔ ترقیاتی اخراجات یعنی ڈیم، سڑکیں، اسکول اور ہسپتالوں کے منصوبے مہنگائی سے پہلے تقریباً 9 فیصد اور مہنگائی کے بعد تقریباً 16 فیصد کم ہو گئے ہیں۔
اور یہ دباؤ صرف وفاق تک محدود نہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت صوبوں کو بہت بڑے سرپلس جمع کرنے کی شرط دی گئی ہے۔ ان کی آمدنی کا 15 سے 17 فیصد، جبکہ ریکارڈ شدہ تاریخ میں وہ کبھی 10 فیصد سے زیادہ بچت نہیں کر سکے۔
اس ہدف کے لیے نیشنل اکنامک کونسل نے صوبائی ترقیاتی پروگراموں کو گزشتہ سال کے حقیقی اخراجات کی سطح پر منجمد کر دیا ہے۔ اسکول، کلینک اور مقامی سڑکیں صوبائی ذمہ داری ہیں۔ اگر آپ کا شہر کسی ایسے منصوبے کا انتظار کر رہا تھا، تو غالب امکان ہے کہ اسے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔
اس کفایت شعاری کی قیمت اور فائدہ
اس پالیسی کے پیچھے ایک قابلِ دفاع منطق موجود ہے، اور اسے بھی اتنی ہی وضاحت سے بیان کرنا چاہیے جتنی اس کی لاگت کو۔ کئی برسوں تک قرضوں پر سود کی ادائیگیاں بجٹ کو نگلتی رہی ہیں۔
بدترین دور میں، 2 سال پہلے، حکومتی آمدنی کے ہر ایک روپے میں سے 61 پیسے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتے تھے۔ یہ شرح گزشتہ سال 49 پیسے تک گر گئی اور آئندہ سال کے لیے تقریباً 40 پیسے رکھی گئی ہے، کیونکہ شرحِ سود کم ہوئی ہے اور حکومت نے غیر معمولی طور پر اخراجات کو قابو میں رکھا ہے۔ گزشتہ سال کم از کم 16 برسوں میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ حکومت نے اپنے بجٹ میں مختص رقم سے کم خرچ کیا، چاہے وہ انتظامی اخراجات ہوں یا ترقیاتی۔
سودی ادائیگیوں میں کمی سے جو گنجائش پیدا ہوئی، اسی نے بغیر مجموعی خسارہ بڑھائے بینظیر انکم اسپورٹ اور دفاعی بجٹ میں اضافے کی مالی گنجائش فراہم کی۔ ہم دراصل ایک ایسا بجٹ واپس خرید رہے ہیں جو پہلے سے رہن رکھا جا چکا تھا۔
حاصلِ کلام
رہن رکھے گئے بجٹ کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لانے کی قیمت سب یکساں طور پر ادا نہیں کر رہے۔ پٹرولیم لیوی اور ترقیاتی اخراجات میں جمود سب تک پہنچتا ہے؛ جبکہ تحفظ — یعنی غریب ترین افراد کے لیے نقد امداد اور سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں میں اضافہ — صرف کچھ لوگوں تک محدود ہے۔
وہ سفید پوش طبقہ، جو نجی شعبے میں کام کرتا ہے، جس کے پاس بینظیر کارڈ نہیں اور نہ ہی تنخواہ میں اضافے کا کوئی نظام یا امید، اس سے صبر کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور بدلے میں دو چیزیں پیش کی جا رہی ہیں: مسلسل کم ہوتی ہوئی مہنگائی، اور ایک ایسی ریاست جو آخرکار اپنی حیثیت کے مطابق زندگی گزار رہی ہے۔
یہ معاہدہ برقرار رہتا ہے یا نہیں، اس کا انحصار ایک عدد پر ہے اور وہ ہے ٹیکس وصولی کا ہدف۔ یہ ہدف بلند ہے؛ اگر وصولیاں کم رہیں تو ایڈجسٹمنٹ ہمیشہ کی طرح اسی مد سے آئے گی جو تیزی سے کم کی جا سکتی ہے یعنی ترقیاتی اخراجات۔
فی الحال آپ جولائی میں لیوی کے نوٹیفکیشن پر نظر رکھیں، اور اس مہینے کے آخر میں صوبائی بجٹوں پر بھی۔ یہی وہ جگہیں ہیں جہاں یہ بجٹ اپنی اصل حقیقت ظاہر کرے گا۔
—————————————————
علی حسنین لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (لمز) میں معاشیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔
