وفاقی بجٹ دستاویزات میں مالی سال کے دوران قومی اسمبلی کے مختلف شعبوں اور انتظامی امور کیلئے 17 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق قومی اسمبلی کے مجموعی اخراجات کیلئے 17 ارب روپے سے زائد رقم رکھی گئی ہے، جبکہ اسمبلی کی تزئین و آرائش اور تعمیراتی کاموں کیلئے 18 کروڑ روپے سے زیادہ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق اراکین قومی اسمبلی کی تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر اخراجات کیلئے 5 ارب 35 کروڑ 60 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اسی طرح اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے دفاتر کے انتظامی اور آپریشنل اخراجات کیلئے 39 کروڑ 34 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، رانا تنویر حسین
دستاویزات میں اپوزیشن لیڈر کے دفتر کیلئے 8 کروڑ 34 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش بھی شامل ہے، جبکہ کشمیر کمیٹی کیلئے 20 کروڑ 11 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق پارلیمانی امور، انتظامی ضروریات اور قانون سازی کے عمل کو مؤثر بنانے کیلئے مختلف مدات میں فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ مجوزہ بجٹ پر حتمی منظوری پارلیمنٹ میں بحث اور ووٹنگ کے بعد دی جائے گی۔
