وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں دفاعی اخراجات کیلئے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔یہ رقم گزشتہ سال، جب پاکستان نے بھارت کیساتھ مختصر مگر فیصلہ کن جنگ لڑی، کے 2 ہزار 550 ارب روپے کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد زیادہ ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے آغاز میں بھی اسی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔
بجٹ میں آئی ٹی برآمدات پر ٹیکس رعایت برقرار رکھنے کی تجویز
انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان نے دنیا میں ایک مضبوط اور باوقار ملک کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ برس بھارتی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی مسلح افواج نے چند ہی گھنٹوں میں دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔
وزیر خزانہ نے آپریشن “بنیان المرصوص” کو قومی تاریخ کا ایک اہم باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی برسوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور تیاری کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا پاکستان کی دفاعی قوت کی معترف ہے اور کئی ممالک پاکستانی جنگی طیاروں میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
حکومت اور پیپلز پارٹی میں معاملات طے ہو گئے، بلاول بھٹو بجٹ اجلاس میں شریک
انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی صنعت اب قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بھی بن رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط دفاع نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ معاشی ترقی کیلئے بھی اہم ہے۔
دفاعی بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ملکی دفاع حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی تناظر میں 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
