وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیٹرول سبسڈی کوعمومی سے ٹارگٹڈ نظام میں تبدیل کیا، پیٹرولیم بحران کے دوران 139 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔
سینیٹر محسن عزیز کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر توجہ مبذول کرانے کے نوٹس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں اور عوامی ٹرانسپورٹ کو ترجیحی ریلیف فراہم کیا گیا،لگژری گاڑیاں رکھنے والوں کو سبسڈی دینا مناسب نہیں۔
ایک لیٹر پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 235 روپے 37 پیسے بنتی ہے، سرکاری دستاویزات
ترقیاتی فنڈز کم کرکے پیٹرولیم سبسڈی کا انتظام کیا گیا،غریب طبقے کو ریلیف دینے کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی متعارف کرائی گئی،موٹر سائیکل مالکان کو 3ماہ کیلئے خصوصی سبسڈی دی گئی،چھوٹے کسانوں کیلئے ڈیزل سبسڈی کو انتہائی اہم قرار دیا گیا۔
صوبوں کے تعاون سے ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام نافذ کیا گیا،پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا نے پروگرام میں حصہ لیا،8لاکھ موٹر سائیکل مالکان سبسڈی پروگرام سے مستفید ہوئے۔کسانوں کیلئے اربوں روپے کی ڈیزل سپورٹ فراہم کی گئی،حکومت نے شفافیت سے سبسڈی تقسیم کرنے کا دعویٰ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بحران ختم ہونے کے بعد بھی معاشی اثرات برقرار رہیں گے،قیادت کی کوششوں سے معاشی صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے،عالمی بحران کے باعث معیشت کو طویل مدتی چیلنجز درپیش ہیں۔
پیٹرولیم لیوی عوام پر ظلم ہے، ختم نہ کی گئی تو ہڑتال کی کال دیں گے، حافظ نعیم الرحمان
پیٹرولیم لیوی پہلے سے ہمارے معاہدوں کا حصہ ہے،پاکستان اس وقت عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام میں ہے،عالمی معاہدے میں ہونا اور اس کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
